داعش نے نوجوان قتل کر کے چوک میں مصلوب کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے شمال وسطی شہر الرقہ میں گذشتہ چند ہفتوں سے دشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام [داعش] نے نہ صرف متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے بلکہ اپنی مخصوص شریعت نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ شہر میں مبینہ طور پر ہونے والی چوری، ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے شبے شہریوں کو پکڑ کر انہیں سزائیں دی جا رہی ہیں۔ اب تک کئی شہریوں کو قتل، کئی کے ہاتھ کاٹے اور بعض کو کوڑوں کی سزائیں دی گئی ہیں۔

اسی نوعیت کا ایک تازہ واقعہ کل 22 مارچ کو سامنے آیا۔ جس میں ایک نوجوان کو قتل کے بعد پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ایسا ہولناک منظر اس سے قبل اہل الرقہ نے منگولیا کے خون آشام تاتاریوں کے سفاکانہ حملوں میں بھی نہیں دیکھا ہو گا جیسا کی داعش نے برپا کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الرقہ شہر کے وسط میں ایک دیوار سے لٹکی ایک نوجوان کی لاش دیکھ کر لوگ خوف زدہ ہو گئے۔ الرقہ کے ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ ہفتے کو علی الصباح ہم نے ایک نامعلوم نوجوان کا دیوار سے لٹکتا لاشا دیکھا جس کے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھ کر ایک لکڑ کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔ اس کے جسم کے ساتھ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر مختصر الفاظ میں اسے مجرم قرار دیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ قتل چوری کے شبے میں کیا گیا۔

مقامی شہری نے کہا کہ کسی مردہ کی بے حرمتی چاہے وہ سنگین مجرم ہی کیوں نہ ہو کون سا اسلام ہے۔ کیا اسلام کے ان نام لیواؤں یہ معلوم نہیں کہ مجرم کو قتل کر دینے کے بعد اسے دفن کرنا بھی ایک فریضہ ہے۔ مقتول نوجوان کی نعش مسلسل تین دن اور راتیں دیوار سے لٹکتی رہی۔ کسی میں ہمت بھی نہ تھی کہ وہ نوجوان کا لاشہ اتار کر دفن ہی کر دیتا۔

الرقہ کے ایک مقامی شہری نے بتایا کہ مصلوب نوجوان کا تعلق الحلسیات سے پتہ چلا ہے جبکہ دوسرے مقتول نوجوان کا رطلہ سے ہے لیکن اس کے خاندان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

مختلف سماجی جرائم میں ملوث ہونے کے شبے میں "داعش" کے عناصر شہریوں کو پکڑ کر ان پر اپنی مرضی کی شرعی حدود کا نفاذ کر رہے ہیں۔ جرائم میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو ان کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزائیں دی جاتی ہیں۔ قصاص کے جرم میں مجرم کی گردن اڑائی جاتی ہے۔ چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور دیگر مختلف جرائم کی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ "داعش" کے جنگجوؤں کے ہاتھوں بعض ملزمان کو سرے عام پھانسی دی جاتی ہیں۔ گذشتہ چند ایام میں شہر میں چار افراد کی گردنی اڑا دی گئیں۔

داعش کے جنگجو نہ صرف خود اہل رقہ پر ظلم وستم ڈھا رہے ہیں بلکہ داعش اور بشار الاسد کی وفادار فوج کے درمیان بھی تعاون پایا جا رہا ہے۔ داعش کے جنگجو باغیوں کو پکڑ انہیں اسدی فوج کے حوالے کر رہے ہیں۔ نیز داعش کے ارکان شہر کی اہم شخصیات کی مخبری بھی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں