عراق: صدارتی گارڈ کی فائرنگ سے صحافی جاں بحق

قاتل کی فوری گرفتاری کے مطالبات میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزارت داخلہ کے حکام کے صدر مملکت کے حفاظتی دستے میں شامل ایک اہلکار کی فائرنگ سے سینیئر صحافی جاں بحق ہو گیا۔

وزارت داخلہ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے " اے ایف پی " کو بتایا کہ وسطی بغداد میں الجادریہ چیک پوسٹ پر صدارتی باڈی گارڈ کی فائرنگ سے "عراق فری ریڈیو" کا مینجنگ ایڈیٹر مارا گیا۔

ذرائع کے مطابق عراقی صحافی محمد البدیوی اور صدارتی حفاظتی دستے میں شامل کیپٹن رینک کے ایک افسر کے درمیان کسی معاملے پر تکرار ہوئی جو دونوں کے درمیان تلخ کلامی پر منتج ہو گئی۔

اسی دوران محافظ نے طیش میں آ کر صحافی پر فائر کھول دیا۔ کئی گولیاں صحافی کے جسم میں پیوست ہو گئیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے الجادریہ پولیس چوکی کو گھیرے میں لے کر قاتل سیکیورٹی اہلکار کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم آخری اطلاعات تک اس کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب وزیر اعظم نوری المالکی کے مشیر اطلاعات علی الموسوی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری اور قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرم کی گرفتاری اور اسے عدالت میں پیش کیے جانے کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی۔

عراق کے صحافتی اور ابلاغی حلقوں نے صدارتی محافظ کے حملے میں صحافی کی ہلاکت کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

عراقی جرنلسٹ یونین کے کوآرڈینیٹر موئید اللامی نے محافظ کے ہاتھوں صحافی کے قتل کو 'مجرمانہ' کارروائی قرار دیتے ہوئے قاتل کو فوری طور پر قانون کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک مجرم کو قانون کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک نہتے صحافی کو گولیوں سے بھوننے والے اس مجرم کو فوری طور پر عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں