.

نیتن یاہو کی فلسطینی مخالف جارحیت جاری رکھنے کی دھمکی

مزاحمتی تنظیموں کا فلسطینی اتھارٹی پر اسرائیل سے سکیورٹی تعاون کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ پالیسی جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جوکوئی بھی صہیونی ریاست پرحملوں کی سازش کرے گا،اس کے خلاف فوج طاقت کا استعمال کرے گی۔

نیتن یاہو نے یہ دھمکی غرب اردن میں ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائی میں تین فلسطینیوں کی شہادت کے بعد دی ہے۔انھوں نے اتوار کو کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ''ہماری پالیسی ان پر حملے کی ہے جو ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں یا جو ہم پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ان دونوں پر ہماری اس پالیسی کا اطلاق ہوتا ہے''۔

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین مہاجر کیمپ میں حماس کے ایک مزاحمت کار حمزہ ابو علحجا کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائی کی تھی۔صہیونی فوج کے بیان کے مطابق اس دوران ان کی فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی شروع ہوگئِی۔

اس لڑائی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے بیس سالہ ابو علحجا ،اسلامی جہاد کا ایک کارکن انیس سالہ محمود ابو زینا اورایک شہری یزان جبرین شہید ہوگئے تھے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کی جارحانہ کارروائی میں ان تینوں فلسطینیوں کی شہادت پر یوم سوگ اور عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

حماس ،اسلامی جہاد اور فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے عسکری ونگ الاقصیٰ شہداء بریگیڈز نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے ان تینوں فلسطینیوں کی شہادت کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے فلسطینی اتھارٹی پر بھی ان کی شہادت میں ملوث ہونے الزام عاید کیا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کررہی ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر نے اس جارحانہ کارروائی کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ابو علحجا صہیونیوں پر مسلح حملوں میں ملوث تھا اور مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا لیکن واضح رہے کہ صہیونی سکیورٹی فورسز کے ترجمان فلسطینیوں کے خلاف ہر جارحانہ کارروائی کے بعد اسی طرح کے بودے اور بلاثبوت جواز پیش کیا کرتے ہیں۔