527 اخوانی رہنماوں کے مقدمہ کی سماعت ملتوی

سات سو اخوانیوں کے مقدمات کی سماعت دو مراحل میں ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے شہر المنیا کی ایک فوجداری عدالت نے کالعدم قرار دی جانے والی دینی و سیاسی جماعت "اخوان المسلمون" کے قائدین پر بنائے گئے مقدمے کی سماعت کے بعد 527 قائدین کے کیسز کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔ اخوانی رہ نماؤں کے ایک مشترکہ مقدمہ کی سماعت جسٹس سعید یوسف کی عدالت میں ہوئی جہاں مجموعی طور پر 1211 اخوانی کارکنوں کی تفصیلات پیش کی گئی۔ ان میں سے 527 کے کیس سماعت کے بعد مزید سماعت ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ سات سو کارکنوں کی مقدمات پر کارروائی کل پیر اور پرسوں منگل کو بھی ہو گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق ہفتے کے روز اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت درجنوں قیدیوں کو عدالت میں آہنی کٹہروں میں پیش کیا گیا۔ قیدیوں نے عدالت کو 'باطل' قرار دیتے ہوئے عدالتی فیصلے مسترد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

اس موقع پر اخوان کے وکلاء دفاع نے بھی عدالتی ٹرائل کو مسترد کر دیا اور کہا کہ عدالت جس انداز میں قیدیوں سے ڈیل کر رہی ہے وہ نہایت شرمناک ہے۔

خیال رہے کہ 12 سو سے زائد اخوانی رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد ملک میں بدامنی پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اخوان المسلمون کے رہ نماؤں پر بدامنی کے علاوہ مختلف دیگر الگ الگ الزامات کے تحت بھی مقدمات چل رہے ہیں لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گذشتہ برس اگست کے بعد ملک میں بدامنی پھیلانے کے الزام میں جماعت کی اتنی بڑی تعداد کا ٹرائل کیا گیا ہو۔

واضح رہے کہ بدامنی کیس میں جماعت کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع بھی شامل ہیں۔ ان پر اہم حکومتی اور حساس اداروں کی تنصیبات پر حملوں کی معاونت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ برس تین جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد ملک میں مسلسل احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مصری حکومت طاقت کے ذریعے مظاہرے کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن قاہرہ کو اس میں فی الحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دینے، اس پر کڑی پابندیاں عائد کرنے اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے باجود ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کی تحریک اب بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں