بشارالاسد کے دو اور چچازاد لڑائی میں مارے گئے

شامی فوج اور باغیوں کے درمیان ترکی کی سرحد کے نزدیک گھمسان کی جنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمال مغربی صوبے اللاذقیہ میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں صدر بشارالاسد کے دو اور چچازاد مارے گئے ہیں۔

العربیہ ٹیلی ویژن چینل نے سوموار کو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں شامی صدر کے دوکزنوں علی الاسد اور کفاح الاسد کی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔اس طرح دوروز میں بشارالاسد کے تین کزن مارے جاچکے ہیں۔

اتوار کو ان کے ایک اور چچا زاد شامی فوج کے اعلیٰ عہدے دار ہلال الاسد ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے کسب میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد صوبہ اللاذقیہ میں نیشنل ڈیفنس پیراملٹری فورس کے سربراہ تھے۔یہ فورس نیم فوجی دستوں پر مشتمل ہے اوراس کو صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے باغی جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے تشکیل دیا تھا۔شامی صدر نے کسی اور کے بجائے اپنے چچا زاد کو اس کی کمان سونپی تھی۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد اپنے سات جنگجوؤں سمیت النصرۃ محاذ اور دوسرے اسلامی گروپوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔گذشتہ جمعہ کو باغیوں نے کسب کے بیشتر حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔اس قصبے اور اس کے آس پاس کے علاقے میں تین جہادی گروپوں کی جانب سے شامی فوج کے خلاف گذشتہ ہفتے حملوں کے آغاز کے بعد سے شدید لڑائی ہورہی ہے اور اس میں اب تک دونوں متحارب دھڑوں کے بیسیوں جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں