شامی صدر کا کزن باغیوں کے خلاف لڑائی میں ہلاک

ترکی کی سرحد کے نزدیک صوبہ اللاذقیہ میں باغیوں اور شامی فوج میں شدید جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج کے اعلیٰ عہدے دار اور صدر بشارالاسد کے کزن ہلال الاسد ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے اللاذقیہ میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد شمال مغربی صوبہ اللاذقیہ میں نیشنل ڈیفنس پیراملٹری فورس کے سربراہ تھے اور وہ سرحدی قصبے کسب میں اتوار کو باغیوں کے خلاف شدید جھڑپوں میں کام آ گئے ہیں۔

نیشنل ڈیفنس فورس نیم فوجی دستوں پر مشتمل ہے اور یہ ملیشیا صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے محاذآراء باغی جنگجوؤں کی سرکوبی کے لیے بنائی گئی تھی۔شامی صدر نے کسی اور کے بجائے اپنے چچا زاد کو اس کی کمان سونپی تھی۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ہلال الاسد اپنے سات جنگجوؤں سمیت النصرۃ محاذ اور دوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔شامی باغیوں نے گذشتہ جمعہ کو فوج کے ساتھ شدید لڑائی کسب کے بیشتر حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔تین جہادی گروپوں کی جانب سے اللاذقیہ میں شامی فوج کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد سے وہاں شدید لڑائی ہورہی ہے اور اس میں اب تک دونوں متحارب دھڑوں کے اسّی جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

قبل ازیں ترکی نے شام کے ایک جنگی طیارے کو سرحدی علاقے میں مار گرایا تھا۔شامی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طیارے کو کسب میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران طیارہ شکن ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے شامی طیارہ مارگرانے پر فوج کو مبارک باد دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ترکی کی سرحدی خلاف ورزی کی گئی تو اس پر اسی طرح سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں