شام سے متعلق فی الوقت مذاکرات بحال نہیں ہورہے:الابراہیمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضرالابراہیمی کا کہنا ہے کہ فی الوقت صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات بحال نہیں ہورہے ہیں۔

انھوں نے کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جنیوا میں (مذاکرات کے لیے )واپسی فی الحال زیر غور نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے طے شدہ شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں''۔

شامی حکومت اور حزب اختلاف کے وفود کے درمیان جنیوا مذاکرات کا دوسرا دور بے نتیجہ رہا تھا اور الاخضر الابراہیمی نے فریقین کو متنازعہ امور طے کرنے کی غرض سے وقت دینے کے لیے مذاکرات ختم کردیے تھے اور انھوں نے ان کی بحالی کے لیے کوئی تاریخ بھی مقرر نہیں کی تھی۔

سفارت کاروں کے مطابق عالمی ایلچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسی ماہ کے آغاز میں شام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے اسد حکومت کو آیندہ مذاکرات میں تاخیر کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

انھوں نے نیویارک میں اس بریفنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:''اگر شام میں صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو میرا شُبہ یہ ہے کہ اس کے بعد تمام حزب اختلاف کو حکومت کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی''۔

انھوں نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ''اگر بشارالاسد مزید سات سال کے لیے صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو انھیں شک ہے کہ اس سے شامی عوام کے مصائب کم نہیں ہوں گے''۔

انھوں نے شام میں بحران کے حل سے قبل صدارتی انتخابات کے انعقاد کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے امن کوششیں خطرات سے دوچار ہوجائیں گی اور اگر بشارالاسد دوبارہ صدر بن جاتے ہیں تو اس سے بحران کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں پیچیدگی کا شکار ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں