.

سعودی ڈاکٹر کی سفرِ افغانستان کے بعد منفی نظریات سے توبہ

''افغان عورت دنیا سے کٹی ہوئی ہے،اسے فیشن اور خوشبویات کا کچھ پتا نہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ڈاکٹر نے جنگ زدہ افغانستان کا جہاد کے لیے سفر کرنے کے بعد انتہا پسندانہ رجحانات سے دستبردار ہوگئی ہیں اور انھوں نے وہاں جو کچھ بچشم خود ملاحظہ کیا،اس نے انھیں اپنے نظریات تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

سعودی گزٹ میں سوموار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس خاتون ڈاکٹر نے اپنا تعارف اپنے نام کے ابتدائی حروف س اور ف سے کرایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ زدہ ملک میں انتہا پسندوں کے غلط عقائد اور غلط کاریوں کو قریب سے دیکھا جس کے بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ جوکچھ کررہے ہیں،اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے اپنی کہانی یوں بیان کی:''یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے۔میرے خاوند مجھے اورمیرے بچے کو اپنے ساتھ جہاد کے لیے افغانستان لے گئے۔میں نے ان کے ساتھ جانے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ میں ان سے محبت کرتی تھی اور مجھے ان کے فیصلوں پر اعتماد تھا''۔

''میرے خاوند جب جہاد کے لیے گئے ہوتے تو میں کیمپوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی اور ایک ڈاکٹَر کی حیثیت سے زخمیوں کا علاج کرتی اور کیمپوں میں موجود خواتین کے لیے کھانا پکاتی تھی''۔افغانستان میں گزرے ایام کی اتنی کہانی بیان کرنے کے بعد اس خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں وہاں والدین کی اجازت یا ان کے علم میں لائے بغیر جانے پر افسوس تھا۔

ڈاکٹر س ف نے بتایا کہ ان کے بچے کم وبیش روزانہ ہی لاشیں دیکھتے اور تب ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ کاش ان کے بچے اپنے گھر میں ایک محفوظ ماحول میں ہوتے۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''کیمپوں میں زندگی بہت ہی مشکل تھی اور وہاں بنیادی اور اہم ضروریات بھی دستیاب نہیں تھیں اور وہ سلامتی اور استحکام ہیں۔کیمپوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔مجھے بموں کے دھماکوں اور مشین گنوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازوں میں اپنے خاوند کے ساتھ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں منتقل ہونا پڑتا تھا۔زخمیوں اور لاشوں کو دیکھنے کے مناظر بہت ہی دل دہلا دینے والے ہوتے تھے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں کیمپوں میں گزرے ان ایام کے دوران اپنے بچوں کو بھیڑ کا دودھ پلانا سیکھا اور افغان خواتین سے صبر اور شکر سیکھا۔وہ ناخواندہ ہیں اور ان کا ان کی دنیا سے بالکل ناتا توڑ دیا گیا ہے کیونکہ وہ فیشن اور کاسمیٹکس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ ''میں دریاؤں سے پانی لاتی تھی اور اسے اُبال لیتی تھی تاکہ ہم اس کو پی سکیں لیکن ان تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود میرا بڑا بیٹا لاشوں اور زخمیوں کے نزدیک رہنے کی وجہ سے بیمار پڑ گیا۔تاہم وہ بعد میں ٹھیک ہوگیا اور میں نے وطن لوٹنے کا فیصلہ کر لیا''۔

''میں اپنے سخت گیر خاوند کو اس بات کا قائل کرنے میں کامیاب ہوگئی کہ ہمیں اپنے گھر لوٹ جانا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ کررہا ہے،وہ غلط ہے اور کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا۔اسلام ہمیں خود کواس طرح موت کے منہ میں دھکیلنے اور قسمت کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔بچے اور خاندان جہاد سے زیادہ توجہ اور نگہداشت کے حق دار ہیں''۔اس کے بعد وہ افغانستان سے سعودی عرب لوٹ آئی تھیں۔