.

'اعلان کویت' میں شامی بحران کے سیاسی حل پر زور

اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم نہ کرنے کے فلسطینی فیصلے کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے کویت میں جاری دو روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے 'اعلان کویت' میں شرکاء نے بشار الاسد حکومت کے ہاتھوں تین سال سے شام میں جاری ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔

اعلامئے میں عرب رہنماوں نے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم نہ کرنے کے فیصلے کی توثیق کی۔ اسرائیل کے خود کو یہودی ریاست تسلیم کروانے پر اصرار نے امریکی سربراہی میں جاری امن مذاکرات کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔

کویتی وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری خالد الجار اللہ نے اعلان کویت پڑھا۔ اعلامئے میں شامی فوج کے ہاتھوں نہتے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ "ہم پہلی جنیوا کانفرنس میں طے پانے فارمولے کے مطابق شامی بحران کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔'

اس سے پہلے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے سربراہ کانفرنس میں میں شام کی خالی نشست متحدہ اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اس سے پہلے عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کہہ چکے تھے کہ شامی اپوزیشن کو یہ نشست ضروری تقاضے پورے کیے بغیر نہیں دی جا سکتی ہے۔

شہزادہ سلمان نے شام کی صورت حال کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ زمین پر ''طاقت کا توازن تبدیل'' کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں بحران تباہ کن حد تک بڑھ چکا ہے۔

واضح رہے عرب لیگ نے سربراہ کانفرنس میں شام کو اپنے ایجنڈے میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا تھا۔ شامی مسئلے کو ترجیحی اہمیت دینے کی وجہ سے ہی شامی متحدہ اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا نے بھی اس سربراہی اجلاس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا اور شام کی نشست ان کے زیر قیادت شامی اپوزیشن کو دینے کا مطالبہ کیا۔

احمد الجربا نے اپنے خطاب میں کہا ''عرب لیگ میں شامی نشست خالی رکھ کر بشار الاسد کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنے لوگوں کو اور مارو کہ جنگ کا فیصلہ ہوتے ہی یہ نشست تمہیں دے دی جائے گی۔''

عرب ملکوں کے اس اختلاف کے باعث سربراہی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی اعلی ترین قیادت کے بجائے ''لو پروفائل'' شخصیات کر رہی ہیں۔ میزبان ملک کویت کے علاوہ سربراہی کانفرنس میں صرف قطر کی نمائندگی اعلی ترین سطح سے موجود ہے۔

خلیجی ممالک سے لو پروفائل وفود شریک ہیں سعودی شاہ عبداللہ کی نمائدگی ان کے ولی عہد شہزادہ سلمان کر رہے ہیں جبکہ اومان کے سلطان قابوس نے اپنے خصوصی نمائندے کو بھیجا ہے۔