مصر: مزید 919 اخوانی کارکنوں کیخلاف مقدمے کا حکم

مقدمے کی سماعت المنیا میں ہوگی، جہاں 529 کو سزا سنائی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے حکم دیا ہے کہ اخوان المسلمون کے رہنماوں سمیت مزید 919 کارکنوں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ ان لگ بھگ ایک ہزار کارکنوں کے خلاف بھی اسی انداز میں مقدمہ چلائے جانے کی ہدایت جس طرح اس سے پہلے دو دن کیلیے 529 کارکنوں کے خلاف مقدمہ چلا کر انہیں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں 682 کارکنوں کا ٹرائل بھی تین روز قبل شروع کر دیا گیا ہے.

پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے جن 919 اخوانی کارکنوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا ہے ان پر قتل اور دہشت گردی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ انہیں بھی قاہرہ کے جنوب میں صوبہ المنیا میں ہی عدالتی کارروائی کا سامنا ہو گا۔

واضح رہے اسی صوبے میں ایک جج نے 529 اخوانیوں کو ایک پولیس افسر کے قتل اور پولیس سٹیشن پر حملے کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔ جس کے بعد دنیا بھر میں رد عمل سامنے آیا ہے. انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمت کے علاوہ امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ نے بھی مصری عدالت کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔

انہی نئے مقدمات میں سے ایک مقدمے کے 715 ملزمان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع بھی شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ افراد کو قتل کیا اور 51 کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ خیال رہے ستر سال سے زائد کے محمد بدیع کو 14 اگست 2013 کو سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون میں ان کے بیٹے کے قتل کے اگلے روز قاہرہ سے گرفتار کیا تھا۔

محمد بدیع کو 204 مزید اخوانی کارکنوں کے ساتھ ایک اور مقدمے کا بھی سامنا ہے۔ اس مقدمے میں بھی اس بزرگ سیاسی رہنما پر تشدد کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ تاہم پراسیکیوٹر کی طرف سے نئے مقدمے کے حکم کے حوالے سے ابھی عدالت میں سماعت کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں