قطر:امریکی جوڑے کو بچی کی موت پر3،3 سال قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطر میں ایک عدالت نے لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی جوڑے کو اپنی آٹھ سالہ متبنیٰ بیٹی کو بھوک سے مارنے کے جرم میں تین،تین سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

میتھیو اور گریس ہوانگ کو جنوری 2013ء میں ان کی آٹھ سالہ بیٹی گلوریا کی موت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔استغاثہ کے مطابق اس امریکی جوڑے پر اس بچی کے جسمانی اعضاء بیچنے کا الزام عاید کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

عدالت نے جوڑے کو پندرہ ،پندرہ ہزار ریال (فی کس) جرمانہ بھی عاید کیا ہے اور انھیں قید کی مدت پوری ہونے کے بعد قطر سے بے دخل کردیا جائے گا۔عدالت کے جج نے ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے خلاف کیا فرد جرم عاید کی گئی ہے۔وہ دوہفتے کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

میتھیو ہوانگ نے جمعرات کو اپنے خلاف فیصلے کے بعد عدالت کے باہر رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ہمیں غلط طور پر ماخوذ کیا گیا ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں قطر کے عدالتی نظام نے یرغمال بنالیا ہے۔یہ غلط فیصلہ ہے اور بظاہر یہ چہرہ کے تحفظ سے زیادہ کچھ نہیں ہے''۔

انھوں نے صحافیوں کے سامنے ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں انھوں نے کہا:''ہم ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر براک اوباما سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قطر کے سربراہ ریاست سے فون پر بات کریں اور ان کو بتائیں کہ امریکی خاندان اشد ضروریات کے حامل بچوں کو کیوں متبنیٰ بناتے ہیں''۔

میتھیو نے مطالبہ کیا کہ ''اس فیصلے کوفوری طور پر کالعدم قراردیا جائے اور انھیں واپس جانے دیا جائے''۔اس مجرم جوڑے کو عدالت نے نومبر میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک جیل سے رہا کردیا تھا۔تاہم ان کی قطر سے واپس امریکا جانے کی اجازت کے لیے درخواست مسترد کردی تھی۔

قطر کے پبلک پراسیکیوٹر نے میتھیو اور گریس ہوانگ کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے انھیں محض تین تین سال قید کی سزا ہی سنائی ہے اور انھیں عدالتی فیصلے کے فوری بعد گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔

ان دونوں کے حامیوں نے ''فری گریس اور میٹ'' کے نام سے ایک ویب سائٹ بنا رکھی ہے اور انھوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا موقف ہے کہ قطری حکام نے ان دونوں کی صورت حال کو غلط سمجھا تھا کہ انھوں نے طبی تجربات یا ان کے اعضاء کی فروخت کے لیے بچیوں کو متبنیٰ بنایا تھا اور ان کو پال پوس رہے تھے۔

العربیہ کی رپورٹ کی مطابق امریکی شہری میتھیو اور اس کی اہلیہ گریس ہوانگ اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ 2012ء میں اس چھوٹی خلیجی ریاست میں منتقل ہوئے تھے۔ملزم میتھیو اسٹینفورڈ کا فارغ التحصیل انجنئیر ہے اور وہ قطر میں 2022ء میں منعقد ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ سے متعلق انفرااسٹرکچر کے ایک بڑے منصوبے پر کام کے لیے آیا تھا۔

میتھیو اور گریس ہوانگ دونوں ہی ایشیائی نژاد ہیں،انھوں نے افریقہ سے تین بچوں کو متبنیٰ بنایا تھا اور امریکی محکمہ خارجہ سے ان کے لیے قانونی طریقے سے ویزا حاصل کیا تھا۔بعد میں ان میں سے دو بچوں کو امریکا بھیج دیا گیا تھا۔

گلوریا، میتھیو اور گریس ہوانگز کی منجھلی بیٹی تھی۔اس کو انھوں نے افریقی ملک گھانا میں ایک یتیم خانے سے 2009ء میں متنبیٰ بنایا تھا۔گلوریا 15 جنوری 2013ء کو قطری دارالحکومت دوحہ میں واقع ان کے اپارٹمنٹ میں اچانک انتقال کرگئی تھی۔قطری عدالت میں پیش گئی رپورٹ کے مطابق موت سے قبل گلوریا بیمار نہیں پڑی تھی اور جس کسی نے بھی اس کو موت سے قبل دیکھا تھا، اس ؛کا کہنا تھا کہ وہ آٹھ سال کی صحت مند بچی تھی۔

قطر کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ موت کے سرٹیفکیٹ میں بھوک اور پانی کی کمی کو اس کے انتقال کا سبب قرار دیا گیا تھا۔عدالت میں سماعت کے دوران گلوریا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر انیس محمود نے جج کو بتایا تھا کہ ''میں نے اپنی رپورٹ میں لفظ ''بھوک'' استعمال نہیں کیا تھا بلکہ اس کے بجائے بھوک سے کمزوری کا لفظ استعمال کیا تھا''۔

لیکن قطری پراسیکیوٹر نے پولیس کی انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ موت کا سبب زبردستی کی بھوک تھی۔لاس اینجلس سے گریس کے بھائی نے العربیہ کو بتایا تھا کہ ان کی بہن اور بہنوئی نے اپنی بیٹی کو بھوک سے نہیں مارا تھا بلکہ سائنس کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ان پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کیونکہ بچی دراصل بھوک کے عارضے میں مبتلا تھی اور وہ بعض اوقات کچھ بھی نہیں کھاتی تھی۔وہ مسلسل بھوکا رہنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں