.

شام: النصرۃ محاذ کے ہاتھوں دو سعودی جہادیوں کا قتل

سعودیوں کو بغاوت کرکے داعش سے ملنے پر موت سے ہم کنار کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف محاذآراء اسلامی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے دو سعودی جنگجوؤں کو ''بغاوت'' کے جُرم میں گولی مار کر ہلاک دیا ہے۔

ان دونوں سعودیوں کو ہلاک کرنے کی ویڈیو یوٹیوب پر جاری کی گئی ہے۔اس ویڈیو میں النصرۃ محاذ کا ایک جنگجو (یا قاضی) ان دونوں کو جہادیوں سے بغاوت کرکے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ساتھ ملنے کے الزام میں موت کی سزا کا حکم سنا رہا ہے۔

ویڈیو میں النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والا قاتل (جلاد) قرآن مجید میں سے آیات پڑھ کر سنا رہا ہے ،ان سعودیوں کی جائے پیدائش اور عمروں کے بارے میں بتا رہا ہے اور پھر ان پر عاید کردہ فرد جرم پڑھتا ہے۔یہ ویڈیو اس تمام بیان کے بعد اللہ اکبر کے نعرے پر ختم ہورہی ہے اور اس کے ساتھ دونوں سعودی جہادیوں کو گولی مار کر قتل کردیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے جنوری میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شام میں پچاس سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے سات ہزار سے زیادہ غیرملکی جنگجو لڑرہے ہیں۔ان میں سے بہت سے جنگجو یورپ اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی ہفتے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان سمیت مختلف سے القاعدہ کے جنگجو شام کا رُخ کررہے ہیں اور شام اس وقت القاعدہ کی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بنتا جارہا ہے۔

شام میں دوبڑے جنگجو گروپ النصرۃ محاذ اور دولت اسلامی عراق وشام القاعدہ سے تعلق کے دعوے دار ہیں۔یہ دونوں دھڑے شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے لڑرہے ہیں اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار بند ہیں۔ان کی باہمی دشمنی اتنی شدید ہوچکی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اسی طرح پکڑ کر اپنی نام نہاد خودساختہ عدالتوں کے ذریعے موت سے ہم کنار کررہے ہیں۔

شام کے مختلف علاقوں خاص طور پر شمالی صوبوں ادلب اور حلب میں باغی دھڑوں کی باہمی لڑائی کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل سنت جنگجو تو شامی باغیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ لبنان کی حزب اللہ اور ایران وعراق سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں اور شامی حکومت باغیوں کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔یادرہے کہ شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔