مصر: جزوی طور پر غزہ کیلیے راہداری کھول دی

رفح راہداری کو پچاس دن بعد صرف تین دن کیلیے کھولا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر نے غزہ سے ملانے والی رفح کی راہداری کو پچاس دن مسلسل بند رکھنے کے بعد تین دن کیلیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ رفح کی راہداری سے گنجان ترین آبادی کی حامل غزہ کی فلسطینی پٹی مکمل طور پر پوری دنیا سے کٹ جاتی ہتے۔ رفح کے علاوہ دیگر راستوں کی اسرائیل نے سالہا سال سے ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔ ان میں ساحلی ناکہ بندی بھی شامل ہے۔

اس مسلسل ناکہ بندی کے باعث غزہ میں خوراک اور ادویات کے ہی نہیں ایندھن کے مسائل بھی گھمبیر ہو جاتے ہیں۔ مصر نے غزہ سے ملے ہوئے اس واحد زمینی راستے رفح کو پہلے منتخب صدر مرسی کی جولائی 2013 میں برطرفی کے بعد ہی سے عملا بند کر دیا تھا۔ البتہ وقفے وقفے سے مختصر مدت کیلیے کھولا جاتا رہا ہے۔ اب 50 دنوں کے بعد اسے دوبارہ تین دن کیلیے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان تین دنوں کیلیے صرف وہ لوگ رفح کراسنگ سے گذر سکیں گے جن کی صحت سخت بگاڑ کا شکارہے۔ یا جنہیں دوسری جگہوں پر تعلیم کیلیے جانا ہے یا ریلیف کے کام میں حصہ لے رہے ہوں۔

ہفتے کے روز فلسطینیوں کو غزہ سے لے کر آنے والی بس ابتدائی مسافروں کو لے کر رفح پہنچی ہے۔ منگل کے روز اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کیلیے ادارے کے ذمہ دار فلیپو گرینڈی نے مصری حکام پر زور دیا تھا کہ رفح کی راہداری کھولی جائے۔ مرسی کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد مصری فوج نے سینکڑوں زیر زمین موجود سرنگیں بھی ختم کر دی تھیں۔

مسٹر فلیپو نے اسرائیل سے بھی کہا ہے کہ'' 2006 سے جاری غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے۔'' رواں ماہ کے دوران غزہ میں حکمران فلسطینی جماعت نے مصر کی طرف سے رفح کی بندش کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی رفح کی بندش پر سخت تنقید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں