.

آیندہ چند روز میں امن مذاکرات کا فیصلہ ہوجائے گا:اسرائِیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ آیندہ چند روز میں امن مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے بارے میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔

نیتن یاہو نے اتوار کو اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل اپنی جماعت لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے اور ان کے یہ کلمات متعدد اسرائیلی ویب سائٹس نے رپورٹ کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''معاملے کو یا تو طے کر لیا جائے گا یا پھر ختم کردیا جائے گا لیکن کسی بھی صورت میں کوئی ایسی ڈیل نہیں کی جائے گی جس میں یہ واضح نہ ہو کہ اسرائیل کو بدلے میں کیا ملے گا اور اگر کوئی ڈیل ہوتی ہے تو اس کو منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکا کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کو مذکورہ ڈیڈ لائن کے بعد جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی سمجھوتا نہیں طے نہیں پاسکا ہے اور اسرائیل نے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے تحت باقی چھبیس فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے رہا نہیں کیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کو ایک امریکی ثالث کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی کو قیدیوں کے چوتھے اور آخری بیچ کو رہا نہ کرنے کے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے اس بیان کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس تنازعے کو طے کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان قیدیوں کی رہائی تک مذاکرات میں توسیع نہیں کریں گے بلکہ اس پر غور بھی نہیں کریں گے لیکن اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ ایک عرصے سے جیلوں میں بند ان فلسطینیوں کی رہائی کے بغیر ہی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے۔

فلسطینی قیدیوں کے امور کے وزیر عیسیٰ قرقاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بحران کو بہت جلد طے کر لیا جائے گا کیونکہ اس سلسلہ میں کوششیں جاری ہیں اور مجھے یقین ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں تمام معاملہ طے ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے جولائی 2013ء میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ثالثی میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا ہے۔رہائی پانے والے تمام قیدی بیس سال سے زیادہ عرصے سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔

اسرائیلی وزراء سمجھوتے کے مطابق باقی ماندہ قیدیوں کو رہا کرنے کے بجائے فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کی 29 اپریل کی ڈیڈلائن میں توسیع کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ڈیڈلائن میں توسیع نہ کی گئی تو وہ باقی قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ان فلسطینیوں کو 29 مارچ کو رہا کیا جانا تھا لیکن اسرائیل نے ایسا نہیں کیا ہے۔قبل ازیں اسی ماہ فلسطینی صدر محمود عباس یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل قیدیوں کو رہا نہیں کرتا تو فلسطینی امن مذاکرات میں توسیع پر رضا مند نہیں ہوں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان گذشتہ نوماہ سے جاری امن مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔جان کیری فریقین کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بہت جلد اپنی تجاویز پیش کرنے والے ہیں۔تاہم اس بات کا کم امکان ہے کہ فریقین ان کی تجاویز کو من وعن تسلیم کرلیں گے اور 29 اپریل کی ڈیڈلائن تک ان کے درمیان کوئی حتمی سمجھوتا طے پاجائے گا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بڑے متنازعہ امور پر اختلافات بدستور موجود ہیں اور اب تک بات چیت میں سرحدوں کی سکیورٹی ،غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کی بستیوں، مقبوضہ القدس کے مستقبل اور گذشتہ چھے عشروں سے زائد عرصے سے دربدراور دوسرے ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے حق کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔