.

شامی فوج کے قلمون پر قبضے کی متضاد اطلاعات

بشار الاسد کی فوجی فتح حزب اللہ کے تعاون سے ممکن ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے لبنان کی سرحد سے متصل اہم شہر القلمون سے باغیوں کو پسپا کرنے کے بعد علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی" نے شامی فوج کے ایک ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسدی افواج نے القلمون میں باغیوں کے زیر کنٹرول راس المعرہ اور فلیطہ قصبوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے جس کے بعد شہر کو باغیوں سے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قلمون سے باغیوں کو نکال باہر کرنے میں سرکاری فوج کے ساتھ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور دیگر حکومت نواز جنگجو گروپ بھی مدد کر رہے تھے۔

فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ القلمون سے باغیوں کی پسپائی سے قبل لبنان اور شام سرحدوں کو سیل کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں باغیوں کو لبنان سے اسلحہ اور کمک ملنا بند ہو گئی تھی۔

دوسری جانب شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے القلمون میں سرکاری فوج کے کنٹرول حاصل کرنے کے دعوے کی تردید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ جن دو قصبوں پر اسدی فوج نے قبضے کا اعلان کیا ہے وہاں پر باغیوں نے پسپائی نہیں بلکہ مزید فاتحانہ پیش قدمی کی ہے۔

تاہم اپوزیشن کے اپنے ذرائع نے بھی کہا ہے کہ جیش الحر گھمسان کی جنگ کے بعد جمعہ کی شام راس المعرہ اور فلیطہ قصبوں سے عارضی طور پر نکل گئی تھی۔

درایں اثناء دمشق میں القابون کالونی میں سرکاری فوج نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر دیکھے گئے ہیں، جبکہ جیش الحر نے دمشق کے شمال میں داریا شہر میں اسدی فوج کے ٹھکانے پر ایک بڑی کارروائی کی ہے۔

اپوزیشن ذرائع کے مطابق سرکاری فوج نے حرستا ملٹری اسپتال پر بھی حملہ کیا ہے جبکہ حمص اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی گئی ہے۔ حماہ میں اسدی فوج نے کوبرا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حملے کیے گئے ہیں۔ جنوبی مشرقی شہر مورک میں بھی باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبریں آئی ہیں۔ ادلب میں خان شیخون قصبے میں سرکاری فوج نے بیرل بم حملے کیے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔