.

مصر:26 اور 27 مئی کو صدارتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان

امیدوار 31 مارچ سے 20 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے الیکشن کمیشن نے 26 اور 27 مئی کو آیندہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدوار 31 مارچ سے 20 اپریل تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں۔

مصر کے سابق وزیردفاع اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ ہفتے اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔وہ اور ان کے حواری اس کے لیے مہم تو گذشتہ چند ماہ سے چلا رہے تھے لیکن باضابطہ طور پر وہ فوجی مناصب چھوڑنے کے بعد اب میدان میں آئے ہیں۔

ان کے مقابلے میں بائیں بازو کے سیاست دان اور 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہنے والے حمدین صباحی سامنے آئے ہیں۔مصری سلفیوں کی جماعت النور اور اخوان المسلمون مخالف تمرد تحریک نے عبدالفتاح السیسی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

تمرد تحریک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمارا انتخاب فیلڈ مارشل السیسی ایسی شخصیت ہے جومصری عوام کے ایک بڑے حلقے کے نمائندہ ہیں''۔دوسری جانب عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت اخوان المسلمون ان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی مخالفت کررہی ہے۔

جماعت کے لندن میں مقیم ایک رہ نما ابراہیم مونی نے گذشتہ ہفتے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اگر السیسی صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور جیت جاتے ہیں تو ملک میں کوئی استحکام یا سلامتی نہیں ہوگی''۔

بائیں بازو کے صدارتی امیدوار حمدین صباحی نے عبدالفتاح السیسی کی جانب سے صدارتی انتخاب لڑنے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم جمہوری انتخابات کے منتظر ہیں جو شفاف ہوں،ان میں ریاست کی غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے اورعوام کو آزادانہ طور پر نئے صدر جمہوریہ کے چناؤ کا موقع دیا جائے۔

عبدالفتاح السیسی کے بارے میں مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013 ء میں برطرفی کے بعد سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ آیندہ صدر ہوں گے کیونکہ وہ خود کو قوم کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کررہے ہیں اور انھیں ملک کی طاقتور فوج کی بھی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے ''فیلڈ مارشل'' اور سابق وزیردفاع عبدالفتاح السیسی کو عظیم مصری عوام کی خواہش کے احترام میں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔اس طرح ایک مرتبہ پھر مصر میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف برپا شدہ عوامی انقلاب کے تین سال کے بعد ''آمرانہ جمہوریت'' کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

مصری فوج کی حمایت کے بعد فیلڈ مارشل السیسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بآسانی ملک کے نئے صدر بن جائیں گے کیونکہ تیسری دنیا کی جمہوریتوں میں بالعموم انتخابات یا ریفرینڈم کی طرح کے انتخابی عمل میں ''فرشتے'' بھی فوجی سربراہان کو ووٹ ڈال جایا کرتے ہیں لیکن اس سے مصر میں ایک مرتبہ پھر جمہوریت کے حوالے سے ترقیِ معکوس کا عمل شروع ہوجائے گا کیونکہ عبدالفتاح السیسی اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال میں یقین رکھتے ہیں۔