.

حلب: انقلابیوں کی کارروائی میں دسیوں شامی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن ذرائع کے مطابق بشار الاسد کے سیاسی مخالفیں کے عسکری ونگ جیش الحر نے حلب کے علاقے عزیزیہ اور الشیخ نجار میں منفرد نوعیت کی کارروائیاں کر کے شامی فوج کے دسیوں اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

شمالی محاذ پر جیش الحر کے 77 ڈویژن کے کمان دار کرنل زیاد حاج عبید نے بتایا کہ "انقلابیوں نے حلب کے علاقے الشیخ نجار میں سرکاری فوج پر چڑھائی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ پیش قدمی کے نتیجے میں زمینی حقائق دو سال پہلے والی صورتحال پر واپس آ گئے ہیں۔ کرنل عبید کے مطابق عزیزیہ کے محاذ پر انقلابیوں نے سرکاری فوج پر پلٹ کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔

اھل الشام بریگیڈ کے کنڑول روم نے علاقے میں متمرکز بشار الاسد کی فوج کو نشانہ بنایا، اس حملے میں سرکاری فوج کے بیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ انقلابیوں کے ان حملوں کا مقصد حلب تک پھیلے ہوئے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کا کنڑول دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

درایں اثنا امریکی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ واشنگٹن شامی اپوزیشن کے اعتدال پسند گروپوں کو ایسے طیارہ شکن میزائل دینے پر غور کر رہا ہے جنہیں کاندھے پر رکھے لانچر سے فائر کیا جاتا ہے۔ نیز اپوزیشن فورسسز کو بشار الاسد کی فضائیہ کا مقابلہ کرنے کے لئے دوسرے ذرائع بھی فراہم کرنے پر غور ہو رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی کہ “MAN PAD” نامی کونسا طیارہ شکن میزائل سسٹم باغیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے، تاہم یہ امر طے کہ امریکا نے اگر ایسا طیارہ شکن سٹسم حکومت مخالف شامیوں کو دینے کا فیصلہ کیا تو وہ یقینا ان کا تعلق اعتدال پسند حلقوں سے ہو گا۔

امریکی ذرائع ابلاغ ہی کے مطابق صدر براک اوباما نے اس سلسلے میں اپنے موقف میں قدرے نرمی دکھائی ہے کیونکہ اس سے پہلے خدشہ تھا کہ ایسے ہتھیار کل کلاں کو انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔