سابق اسرائیلی وزیر اعظم پر بدعنوانی کے الزام میں فرد جُرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک عدالت نے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ پر بدعنوانی کے دو الگ الگ مقدمات میں فرد جرم عائد کی ہے۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 1 کے مطابق تل ابیب کی مقامی عدالت میں سابق وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کے زیر سماعت دو الگ الگ مقدمات میں ان پر رشوت خوری اور مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ٹی وی رپورٹ کے مطابق ایہود اولمرٹ کے خلاف دائر مقدمات میں سے ایک کا تعلق ہولی لینڈ رئیل اسٹیٹ پراجیکٹ سے ہے جس میں انہوں نے بقول ٹی وی رپورٹ سنہ 1993ء سے 2003ء تک مقبوضہ بیت المقدس کے میئر کی حیثیت سے تعمیراتی ٹھیکوں میں چار لاکھ تیس ہزار ڈالر رشوت وصول کی تھی۔

دوسرا مقدمہ سنہ 2003ء سے 2006ء کے دور سے تعلق رکھتا ہے جب مسٹر اولمرٹ وزیر صنعت و تجارت کے منصب فائز تھے۔ انہوں نے اس عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رشوت کے عوض "انوسٹمنٹ سینٹر" سے من پسند کمپنیوں اور شخصیات کو ٹھیکے دلوائے اور بھاری رقوم جاری کی تھیں۔ بعد ازاں معلوم ہوا تھا کہ ان ٹھیکوں میں اولمرٹ نے اپنی 'پتی' بھی مقرر کر رکھی تھی۔ خیال رہے کہ ایہود اولمرٹ کے خلاف اسرائیلی عدالتوں میں مقدمات کا آغاز 10 جولائی 2011ء کو کیا گیا تھا۔

انسٹھ سالہ ایہود اولمرٹ سنہ 2008ء میں حکمراں جماعت "کادیما" کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم بھی تھے۔ عدالت میں اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کھلنے کے بعد انہوں نے وزارت عظمیٰ اور پارٹی عہدے چھوڑ دیے تھے۔ سابق وزیر اعظم پر کرپشن کے ایک دوسرے مقدمے میں سنہ 2012ء میں ایک سال کی قید اور جرمانے کی سزا بھی ہوئی تھی۔ تاہم بعد ازاں سزا کو ایک اور عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تھا جس نے کرپشن الزامات کالعدم قرار دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں