لبنان دھماکوں میں ملوث اشتہاری باپ، بیٹا شام فرار

شورش زدہ علاقوں کے لیے نیا سیکیورٹی پلان تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنان کے شام سے متصل شورش زدہ شہر طرابلس میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اشتہاری قرار دیے گئے باپ اور بیٹے کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں کہ وہ غیر قانونی طریقے سے شام فرار ہو گئے ہیں۔ یہ خبریں ایک ایسے وقت میں گردش کر رہی ہیں جب دوسری جانب سیکیورٹی ادارے شمالی لبنان اور طرابلس میں امن امان کے قیام کے لیے ایک نئے سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کی تیاری کررہے ہیں۔

بیروت سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت اخبار 'النھار' نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 'عرب ڈیموکریٹک پارٹی' کے صدر علی عید اور اس کا بیٹا رفعت عید غیر قانونی طریقے سے شام فرار ہو گئے ہیں۔ انہی خبروں کے جُلو میں شورش زدہ وادی البقاع اور طرابلس میں نئے سیکیورٹی پلان کو نافذ العمل کرنے کے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

لبنانی حکومت کے ایک سرکردہ ذریعے نے اخبار 'الحیات' کو بتایا کہ عدالت نے جن لوگوں کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے اُنہیں گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کرنا سیکیورٹی اداروں کا کام ہے۔ سیکیورٹی حکام جلد ہی مطلوب عناصر کو حراست میں لے کر عدالتوں میں پیش کریں گے۔ طرابلس میں جن دو باپ بیٹے کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے، ان کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے طرابلس کے لیے نئے سیکیورٹی پلان کے تحت شہر میں سیکیورٹی کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ چند روز کے دوران طرابلس میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد شہر میں داخل ہوئی ہے، جس کے بعد شہریوں نے قدرے سکون کا سانس لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق طرابلس کے نئے سیکیورٹی پلان کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے تاہم خدشہ ہے کہ شہر کے بعض تخریب کار گروپ سیکیورٹی اداروں کو آزادانہ کام سے روکنے کی سازشیں بھی کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے لبنانی وزارت داخلہ نے شام کی لڑائی سے متاثرہ اور شورش زدہ شمالی وادی البقاع اور طرابلس میں فوج کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ نئے سیکیورٹی منصوبے کے تحت طرابلس میں جبل محسن اور باب التبانہ میں فوج داخل کرنا اور ان دونوں مقامات کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنا شامل ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد طرابلس اور وادی البقاء میں عسکریت پسندی میں ملوث عناصر کے خلاف جاری عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد میں بھی مدد ملے گی کیونکہ عدلیہ نے کئی مشتبہ عناصر کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن ملزمان تاحال مفرور ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں