.

اقوام متحدہ کیلیے نئے ایرانی سفیر پر امریکی ناراض

ابو طالبی نے امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے میں حصہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی انقلاب کے موقع ایران میں یرغمال رہنے والے امریکی شہریوں میں اقوام متحدہ کیلیے ایران کے نئے سفیر کی تقرری پر غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

نئے نامزد کیے گئے ایرانی سفیر حامد ابو طالبی کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے 1979 اور 1980 کے دوران امریکی سفارتکاروں اور عملے پر گذرنے والے بحرانی دنوں میں اہم کردار ادا کیا ہو گا۔ اس لیے ان کے امریکا داخلے کو روکا جائے۔ امریکی سفارتی عملے کو 444 دن تک تہران میں یرغمال رہنا پڑا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ابو طالبی ایران کے ایک نامور سفارتکار ہیں۔ جو اس سے پہلے مغربی ملکوں میں اہم سفارتی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی کی طرف سے اقوام متحدہ کیلیے نامزدگی سے پہلے بھی وہ کئی ماہ اقوام متحدہ کے وفود کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

یرغمالیوں کے حوالے سے ان کا کردار پہلی مرتبہ بلوم ''برگ نیوز'' میں اسی ویک اینڈ کے موقع پر یرغمال رہنے والے بعض امریکی شہریوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ جنہوں نے صدر اوباما سے ابو طالبی کو سفارتی ویزا نہ دینے کیلیے کہا ہے۔ ان سابقہ یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ ''اگر ابو طالبی کو ایرانی سفارتکار کے طور پر آنے کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ امریکا کی عزت کے منافی ہوگا ۔''

سابق یرغمالی بیری روسین کا اس بارے میں کہنا ہے ''اگر صدر اوباما اور کانگریس نے ایران کی اس سفارتی نامزدگی کی مذمت نہ کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ 444 دنوں تک ہم امریکیوں کا یرغمال رہنا ایک معمولی بات تھی، ایرانی فیصلے کی مذمت نہ کرنا ایک بری مثال ہو گی۔''

انہوں نے مزید کہا ایسا ایرانی امریکی سر زمین پر قدم نہیں رکھ سکتا ہے۔'' تاہم روسین کے ترجمان نے یہ تسلیم کیا کہ ابو طالبی کے حوالے سے بہت کمزور شہادت دستیاب ہے۔ روسین کے ترجمان نے کہا کہ 34 سال گذرنے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ ابوطالبی کا یرغمالیوں کے والے سے کردار مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔ البتہ یہ مصدقہ بات ہے کہ وہ یرغمال بنانے والوں کے ساتھ وہیں تھا۔''

یرغمال رہنے والے امریکیوں کے وکیل ٹام لینک فورڈ نے اس بارے میں کہا ''52 امریکیوں کو یرغمال بنانے والے ایک اغوا کار کو امریکا کا ویزا لینے کی اجازت اور امریکا آنے کی اجازت دینا اپنے یرغمال بننے والے شہریوں کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔ ''

لیکن امریکی دفتر خارجہ کی نائب ترجمان میری حرف نے ابو طالبی کے بارے میں فوری طور پر کسی تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔ میری حرف کا کہنا تھا ''ہم انفرادی سطح پر ویزوں کے معاملات کو اس طرح زیر بحث نہیں لاتے ہیں۔'' امریکی ترجمان نے مزید کہا ہر کسی کو امریکی ویزہ حاصل کرنے کیلیے درخواست کرنے کا حق ہے۔