.

قومی مفاہمتی 'اے پی سی' لبنان میں بے نتیجہ ختم

حزب اللہ اور سعد حریری نے اے پی سی کا بائیکاٹ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں قومی مفاہمت کے لیے صدر میشل سلیمان کی دعوت پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئی۔ اے پی سی کا اجلاس بعبدا کے مقام پر ہوا لیکن اس موقع پر کئی اہم سیاسی دھڑوں کے نمائندے بھی غیر حاضر تھے۔ اجلاس میں عدم شرکت کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم سعد الحریری، رکن پارلیمنٹ محمد رعد، سلیمان فرنجیہ، طلال ارسلان، اسعد حردان اور سمیر جعجع شامل ہیں۔

کانفرنس میں پانچ مئی 2014ء کو دوبارہ مفاہمتی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس اجلاس میں حکومت کی پیش کردہ نئی قومی دفاعی پالیسی پر غور کیا جائے گا۔

قبل ازیں اپوزیشن جماعت لبنان فورس پارٹی کے صدر سمیر جعجع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا صدر کی بلائی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی کیونکہ حکومت نے جو قومی دفاعی پالیسی تشکیل دی ہے، اس میں حزب اللہ کو بھی بعض پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

جعجع کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کا موقف صدرکی دعوت مسترد کرنا نہیں بلکہ ہم قومی مفاہمتی حکمت عملی کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں صاف لگ رہا ہے کہ حزب اللہ جیسی جماعتیں مفاہمت میں غیر سنجیدہ ہیں۔

ادھر حزب اللہ نے بھی صدر کی دعوت پر قومی مفاہمتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ حزب اللہ کے سپریم کمانڈر حسن نصراللہ نے صدر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے بائیکاٹ کے بعد لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے مفاہمتی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان غیر متوقع نہیں، لیکن حزب کے بائیکاٹ سے کل جماعت اجلاس کا انعقاد نہیں روکا جا سکتا ہے۔