.

یہودی آبادکاروں کے لیے 700 مکانوں کے ٹینڈرز کا اجراء

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کے موقع پر اسرائیلی حکومت کا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سات سو سے زیادہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کردیے ہیں۔

اسرائیل کی یہودآبادکاری مخالف تنظیم اب امن (پیس نو) کے ڈائریکٹر حجیت عفران نے وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے منگل کو ان ٹینڈروں کی اجراء کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے تحت مشرقی بیت المقدس میں واقع یہودی بستی گیلو میں سات سو آٹھ مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ''وزارت مکانات امن عمل کو پوری قوت کے ساتھ سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں''۔

قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اسرائیل یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کو جزوی طور پر منجمد کرنے پر غور کررہا ہے تاکہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کو زندہ رکھا جاسکے۔

امریکی وزیرخارجہ کی اسرائیلی قیادت کے ساتھ بات چیت کے بعد امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے ایک مجوزہ پیکج بھِی سامنے آیا ہے۔اس کے تحت اسرائیل غرب اردن میں تعمیرات کو منجمد کرسکتا ہے،امریکا اپنی قید میں اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کو رہا کردے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل بھی اپنی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں کو رہا کردے گا۔

جان کیری اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان سوموار اور منگل کو ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی اقدامات کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد 2015ء تک امن مذاکرات کو جاری رکھنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

ایک اور ذریعے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس میں نجی تعمیرات یا سرکاری اداروں کی عمارات کی تعمیر کو منجمد نہیں کرے گا اور وہ مغربی کنارے میں تعمیرات کے ٹینڈروں کے اجراء کے وقت ضبط کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگا۔فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر اس نئی پیش رفت کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے امریکا کی ثالثی میں فلسطینی اتھارٹی سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر اور ان کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ فلسطینی غرب اردن ،مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی پر مشتمل اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائِیل کی فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیانے کی پالیسی کی وجہ سے فریقین مذاکرات میں کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 1967ء کی جنگ میں قبضے کے بعد تعمیر کردہ یہودی آبادکاروں کی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے جبکہ فلسطینی ان بستیوں کو مستقبل میں اپنی مجوزہ ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردے رہے ہیں۔