''اخوان کودہشت گرد قرار دینا برطانوی اقدار کے منافی ہوگا''

سابق برطانوی وزیر انصاف کی مصری جماعت کے خلاف حکومتی تحقیقات پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر انصاف کریسپن بلنٹ نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے اخوان المسلمون کے خلاف تحقیقات کے حکم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ'' اس اقدام سے القاعدہ کو تقویت ملے گی اور اگر غلط طریقے سے اخوان المسلون کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ الٹ بھی آسکتا ہے۔

برطانوی ایم پی کا کہنا ہے کہ '' بدترین چیز یہ ہو گی کہ اخوان المسلمون کو بغیر کسی شہادت کے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر دیا جائے، اگر ایسا کیا گیا تو یہ ہمارا اپنی اقدار سے انحراف ہو گا نیز ایسا اقدام مسائل کو بگاڑنے والی بات ہو گی۔'' انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ '' اخوان المسلمون سے سعودی عرب اور خلیج کی دوسری حکومتیں براہ راست خطرہ محسوس کرتی ہیں۔''

برطانیہ کے سابق وزیر انصاف نے ایسی کوششوں کو ایک غلط پالیسی کے اطلاق کے ذریعے اخوان کے پیروکاروں کو القاعدہ کے اسلحہ کی طرف دھکیلنے کے مترادف قرار دیا اور کہا ''برطانیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہ واضح کرے کہ مصری سیاسی جماعت کی قیادت مصر یا کسی دوسرے ملک میں تشدد پھیلانے کی منصوبہ بندی میں ملوث نہیں ہے۔ ''

خیال رہے ڈیوڈ کیمرون کے حکم کے تحت لندن میں اخوان کی سرگرمیوں اور فکر و فلسفہ کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب میں متعین برطانوی سفیر کی سربراہی میں ایک ریویو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی اخوان کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

لندن میں مقیم مصری تجزیہ کار عبداللہ حمود کا کہنا ہے ''اخوان المسلمون مصری حکومت کے خلاف مصریوں کو متحرک کرنے اور عبوری حکومت پر دباؤ برھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ نیز برطانیہ میں مسلمانوں پر قدرے انتہا پسندانہ اثرات مرتب کرنا چاہتی ہے۔''

اس سے پہلے لندن میں مقیم پاکستانی سیاستدان اور دہری شہریت کے حامل الطاف حسین کے حوالے سے پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ انھیں برطانیہ میں بیٹھ کر کراچی کے امن و امان پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہ دی جائے، لیکن برطانیہ نے اس کا کبھی نوٹس نہیں لیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ان دنوں اپنے ہی ایک اہم ساتھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں زیر تفتیش ہیں۔ اس دوران ان پر منی لانڈرنگ کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں