.

برطانیہ غیر ملکی دباو کے سامنے نہ جھکے: اخوان المسلمون

سرگرمیوں پر ناواجب پابندیاں لگیں تو برطانوی عدالت سے رجوع کرینگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ بیرونی دباو کو خاطر میں نہ لائے اور اخوان کے خلاف تحقیقات کا اعلان واپس لے۔ اخوان المسلمون کی طرف سے یہ مطالبہ برطانیہ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مصر کی اس جماعت کے نظریات اور سرگرمیوں کے جائزے کا حکم دیا ہے۔

اخوان المسلمون کے لندن میں قائم پریس آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق '' یہ ضروری ہے کہ برطانوی حکومت ان غیر ملکی حکومتوں کے دباو کے آگے نہ جھکے جو اپنے عوام کی جمہوریت کیلیے خواہش کے باعث تشویش کا شکار ہیں۔''

واضح رہے اخوان المسلمون کو مصر اور سعودی عرب کی طرف سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ '' کہ وہ تحقیقات کیلیے حاضر ہے لیکن اگر اس کی سرگرمیوں پر کوئی ناواجب پابندی لگائی گئی تو اسے برطانوی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔'' سعودی عرب برطانیہ کا کاروباری اتحادی ہے جبکہ اخوان کا کھلا مخالف ہے۔

دوسری جانب اخوان المسلمون سے وابستہ سیاسی گروپ مختلف عرب اور اسلامی ملکوں میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ اخوان نے سعودی عرب میں برطانوی سفیر جان جین کینز کے حوالے سے کہا ہے کہ '' یہ دیکھنا مشکل ہے کہ جان جین کینز ایک آزادانہ جائزہ مرتب کر سکیں گے اور ایک سفیر کے طور ایک غیر جمہوری رجیم کیلیے اپنا بریف تیار کر سکیں گے، جو اخوان المسلمون کی کھلی سیاسی مخالف ہے۔''

برطانوی وزیر اعظم کی طرف سے جان جین کینز کو اس مقصد کیلیے مقرر کیے جانے پر میڈیا کے اس سوال کہ '' سعودیہ میں برطانوی سفیر کو یہ ذمہ داری کیوں دی گئی ؟'' برطانیہ کی خاتون ترجمان کا کہنا تھا '' وہ مصر کے علاوہ باقی عرب ملکوں سے بھی جانکاری کر سکیں گے، نیز یہ کہ ان کا مشرق وسطی کے بارے میں مطالعہ اور مشاہدہ گہرا ہے۔''

خیال رہے 2011 کی عرب بہاریہ کی وجہ سے شمالی افریقہ کے ممالک میں مطلق العنان حکومتیں ختم ہوئیں اور بعض عرب ممالک میں اخوان المسلمون سیاسی اعتبار سے مضبوط ہو کر سامنے آئی۔ مصر میں اس کے نامزد کردہ محمد مرسی پہلے منتخب صدر بنے۔ جنہیں جولائی 2013 میں فوجی سربراہ نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔