.

بم دھماکے '' اجناد مصر '' نے ذمہ داری قبول کر لی

بدھ کے روز ہونیوالے دھماکوں میں بریگیڈئیر جنرل پولیس ہلاک ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک غیر معروف جہادی تنظیم ''اجناد مصر'' نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک روز قبل بدھ کے روز ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ان بم دھماکوں سے جامعہ الازہر کے باہر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں ایک اعلی پولیس افسر ہلاک اور پانچ دوسرے اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ دو بموں سے جامعہ الازہر کے نزدیک قائم پولیس پوسٹ پر حملہ کیا گیا تھا۔ جس سے پولیس کے بریگیڈئیر جنرل طارق المرجاوی ہلاک ہوئے۔ تیسرا دھماکہ اس وقت کیا گیا جب پولیس اور صحافی دھماکے کے بعد جائے دھماکہ پر جمع ہوئے تھے۔

''اجناد مصر'' نامی اس تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے قبول کی ہے۔ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مذکورہ تنظیم نے کہا ہے کہ ''یہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے ہماری خواتین اور بچیوں کو گرفتار کرنے کا ردعمل ہے۔ '' اس تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ'' ہم نے اس سے پہلے اپنے کئی آپریشن اس لیے منسوخ کر دیے تھے کہ سویلین ان کی زد میں نہ آ جائیں۔''

خیال رہے اس پہلے اجناد مصر نے 24 جنوری کو قاہرہ میں ہونے والے چار دھماکوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ ان دھماکوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دھماکوں کا مقصد حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کی تیسری سالگرہ منا نا تھا۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکہ ایک پولیس افسروں کی گاڑی کے قریب ہوا۔ جس سے بریگیڈیئر جنرل طارق ہلاک اور میجر جنرل عبدالروف الصرافی زخمی ہو گئے۔ میجر جنرل صرافی صوبہ جیزا میں پولیس کے نائب سربراہ ہیں۔ واضح رہے جامعہ الازہر کا سب سے بڑا کیمپس جیزا میں ہی واقع ہے۔ اس بم دھماکے سے قاہرہ میں تشدد کا ایک نیا رخ سامنے آ گیا ہے۔

دوسری جانب عبوری حکومت کے پچھلے ایک ہفتے کے دوران 500 کی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں ان ہلاک ہونے والوں میں عام لوگوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے بم دھماکے ایک سے زائد تھے جو سیکنڈز کے وقفے سے پھٹ گئے۔ سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں استعمال ہونے والے بم گھریلو ساختہ تھے۔

سکیورٹی سے متعلق ایک ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ''پچھلے 9 ماہ سے جاری تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔'' عبوری حکومت نے ماہ مئی کی 26 تاریخ کو صدارتی انتخاب کرانے کا اعلان کرا رکھا ہے۔ اس انتخاب میں فیلڈ مارشل السیسی کے جیتنے کے قوی امکانات ہیں۔