.

بھارتی شہری کا سعودی قاتل نفسیاتی مریض، والدین کا نافرمان

حکومت کی جانب سے مقتول کے لواحقین کی ہر ممکن مدد کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر ریاض میں چند روز قبل ایک سعودی شہری کے ہاتھوں مملکت کے لئے محنت مزدوری کے لیے مقیم بھارتی محنت کش کے 'ناحق قتل' سے متعلق "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو اہم معلومات ملی ہیں۔ قتل کی دل سوز اور گھناؤنی واردات کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ قاتل ذہنی، نفیساتی مریض نشے کا عادی اور ماں باپ کا نافرمان تھا۔ ان سماجی جرائم کے خلاف پہلے بھی پولیس کے پاس ایک رپورٹ بھی درج کی جا چکی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دارالحکومت ریاض میں پیش آئے اس خونی کھیل کو اب تک کئی روز گذر چکے ہیں لیکن شہر میں خوف کی فضاء اور سوگ کی کیفیت اب بھی موجود ہے۔ راہ گیروں نے قتل کی وارادت کی اپنے موبائل کیمروں کی مدد سے جو ویڈیو بنائی تھی اسے اب انٹرنیٹ پر تشہیر دی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں غیر ملکی شہری بھی خود کو خوف کے حصار میں محسوس کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو تیزی سے مقبول ہونا شروع ہوئی تھی جس میں ایک سعودی شخص کو چاقو کے وار سے ایک دوسرے شخص کو قتل کرتے دکھایا گیا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ قاتل سعودی اور مقتول کا تعلق بھارت سے تھا اور یہ واقعہ چند روز قبل ریاض کی سویڈش کالونی میں پیش آیا ہے۔

بھاری شہری کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ریاض پولیس کے ترجمان کرنل فواز المیمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ابھی تک کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مقتول ایک پنسار کی دکان پر کام کرتا تھا، جس کا سعودی قاتل سے کسی قسم کا کوئی جھگڑا تو دور کی بات دونوں میں کوئی شناسائی بھی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے 32 سالہ قاتل سے تفتیش کے ساتھ اس کا طبی معائنہ بھی کیا ہے جبکہ اس کی پہلی میڈیکل رپورٹس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہے۔ بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ جذباتی، جھگڑالو، نشے کا عادی اور والدین سے الجھنے والا شخص ثابت ہوا ہے۔ جب اسے حراست میں لیا گیا اس وقت بھی وہ نشے میں تھا اس کی جیب سے نشہ آور مواد بھی ملا ہے۔ آلہ قتل بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس سے تازہ خون ٹپک رہا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کرنل المیمان نے کہا کہ مجرم نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ریاض میں سوڈش کالونی میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو اس نے محسوس کیا کہ کچھ بد روحیں اس کے راستے میں اس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس نے انہیں مارنے کے لیے گھر سے چاقو لیا اور دوبارہ اسی طرف چل پڑا۔ چند قدم کے فاصلے پر اس نے ایک پنسار کی دکان پر بھارتی ملازم کو بیٹھے دیکھا اور اسی کو بد روح سمجھ کر اس پر چاقو کے پے درپے کئی وار کر دیے۔ مظلوم بھارتی نے جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کی لیکن سعودی ذہنی مریض اسے دبوچ لیا اور چاقو کے مزید چار گہرے زخم لگائے جس کے بعد اس کا زندہ بچنا ممکن نہ تھا۔ ہلال احمر کی ٹیم اسے اسپتال لے گئی لیکن وہ راستے ہی میں دم توڑ گیا تھا۔

ریاض پولیس کے عہدیدار نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے جانب سے واقعے کی تحقیقات کے بعد مجرم کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ خود حکومت مقتول کے لواحقین سے رابطہ کر کے ان کی ہر ممکن مدد کی کوشش کر رہی ہے۔

کرنل المیمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں بھارتی تارکین وطن کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں بھارتی شہریوں کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک بھارتی کے قتل کا یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے گی اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔