.

شدت پسند بلوچ تنظیم نے یرغمال ایرانی فوجی رہا کر دیے

یرغمالیوں کی رہائی علماء، قبائلی عمائدین کی سفارش پر ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں سرگرم سنی شدت پسند عسکری تنظیم بلوچ عدل آرمی نے یرغمال بنائے گئے ایرانی فوجی اہلکاروں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

ایک خفیہ مقام سے تنظیم کے تعلقات عامہ کے سربراہ عبدالرؤف ریگی نے اسکائپ کے ذریعے بتایا کہ یرغمال بنائے گئے فوجی اہلکاروں کی رہائی صوبہ بلوچستان کے اہم قبائلی عمائدین اور علماء اہل سنت کے وفود سے ملاقات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ کمانڈر ریگی نے بتایا کہ اغوا کئے گئے ایرانی فوجیوں کو ملک کی مشرقی سرحد سے تہران حکام کے حوالے کیا گیا۔

بلوچ عدل آرمی کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ایرانی فوجیوں کی رہائی علماء اہل سنت کے احترام اور جذبہ خیر سگالی کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ انہیں توقع ہے کہ جواب میں تہران سرکار بھی حراست میں لیے گئے ان کے ساتھی کارکنوں کو رہا کرے گی۔

خیال رہے کہ جیش العدل البلوچی نے نو فروری کو سُنی اکثریتی مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان سے ایک فوجی افسر اور چار دیگر سرحدی محافظوں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی بلوچ اکثریتی شہر جابہار میں تنظیم کے پندرہ ارکان کو پھانسی اور درجنوں کو جیلوں میں ڈالے جانے کے رد عمل میں کی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے تنظیم نے ایرانی جیل میں اپنے ساتھی علی ناروئی کی مبینہ ہلاکت کے بعد ایک یرغمالی ایرانی کو قتل کر دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرؤف ریگی نے بتایا کہ ان کی تنظیم اور ایرانی حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ ہم نے صرف اہل سنت علماء اور قبائلی عمائدین کے سفارش پر ایرانی فوجیوں کو رہا کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ جیش العدل البلوچی نامی تنظیم پاکستان سے متصل صوبہ سیستان بلوچستان میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کے حقوق کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی آ رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت ملک میں اہل سنت کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہی ہے جس پر انہیں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا پڑے ہیں۔

یہ تنظیم ماضی میں ایران میں ہونے والی کئی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ گذشتہ برس 27 اکتوبر کو تنظیم نے اپنے 16 کارکنوں کی پھانسی کے جواب میں 14 سرحدی محافظ قتل کر دیے تھے۔ بعد ازاں نومبر میں تنظیم نے پاکستان کی حدود میں پرواز کرتے ہوئے ایک ایرانی فوجی ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرایا تھا جس میں کم سے کم چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔