.

پی ایل او کا اسرائیل سے مذاکرات میں جوہری تبدیلی کا مطالبہ

اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے انکار،فیصلے سے مسائل پیدا ہوگئے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی شرائط میں جوہری تبدیلی پر زوردیا ہے۔پی ایل او نے یہ مطالبہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے اچانک انکار کے بعد کیا ہے۔

اس اسرائیلی فیصلے سے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے جاری کوششوں کو سخت دھچکا لگا ہے لیکن اسرائیل کی اعلیٰ مذاکرات کار زیپی لیونی نے اس کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور کنونشنوں میں شمولیت کا فیصلہ قیدیوں کی رہائی کے لیے طے شدہ سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے،اس لیے ان کو رہا نہیں کیا جارہا ہے۔

فلسطین نے اسرائیل کی جانب سے ان قیدیوں کو مارچ کے آخر میں رہا کرنے سے انکار کے بعد پندرہ عالمی اداروں کی رکنیت کے لیے درخواستیں دائر کردی ہیں۔اس کے ردعمل میں زیپی لیونی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اب نئی شرائط پیش کردی گئی ہیں۔اس لیے اسرائیل چوتھے مرحلے میں قیدیوں کو رہا نہیں کرسکتا''۔

ادھر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے اسرائیل کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں لیکن امریکا فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا کیونکہ فریقین میں سے کسی ایک نے بھی ایسا اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ مذاکرات سے دستبردار ہونا چاہتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ''اس حقیقت کے باوجود کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے،ابھی خلیج موجود ہے اور اب اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس خلیج کو پاٹ سکتے ہیں یا نہیں کیونکہ امریکا کسی بھی ایک فریق پر کوئی سمجھوتا مسلط نہیں کرسکتا ہے''۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنی سعی ناکام کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کو تباہ ہونے سے بچائیں۔جان کیری نے منگل اور بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے دو ملاقاتیں کی تھیں لیکن وہ انھیں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس دوران اسرائیل کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ اگر فلسطینی اتھارٹی مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھتی ہے تو پھر پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اور آخری مرحلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی نے امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ اس تجویز کو بلیک میل قراردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے تحت باقی چھبیس فلسطینی قیدیوں کو 29 مارچ کو رہا کرنا تھا۔اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ گذشتہ سال جولائی میں مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا کیا ہے۔رہائی پانے والے تمام قیدی بیس سال سے زیادہ عرصے سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔