امریکا: شامی باغیوں کو مزید امداد دے گا

منصوبہ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکومت نے شامی باغیوں کو چھوٹے اسلحہ کی ترسیل اور تربیت کے معاملات میں توسیع کیلیے ایک منصوبے کو آخری شکل دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ منصوبہ پہلے سے ہی اصولی طور پر منظور شدہ ہے تاہم اس میں وسعت لانے کی ضرورت جنیوا ٹو کے بعد زور پکڑنے والی شامی رجیم کی جنگی کارروائیاں بنی ہیں۔

امریکی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا باغیوں کیلیے امداد میں اضافہ کرتے ہوئے اعتدال پسند باغی گروپوں کو سامان بھیجے گا، واضح رہے ان گروپوں کی بڑی تعداد اردن میں شام کی جنوبی سرحد کے ساتھ ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ ان حکام کے مطابق اضافی امداد میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل نہیں ہوں گے۔

شام کی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ نو ملین شامیوں کو نقل مکانی کرنا پڑ چکی ہے۔ باغیوں کی طرف سے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہیں روسی حمایت یافتہ بشار رجیم کیخلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی دیے جائیں۔ کیونکہ بشار رجیم باغیوں کو مسلسل بمباری سے نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس امداد کی مقدار کیا ہوگی۔ شامی باغیوں کو سعودی عرب اور قطر بھی اسلحہ فراہم کرنے والوں میں شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کو اضافی اسلحہ دینے کیلیے کانگریس سے مزید فنڈنگ کی منظوری لینا ضروری نہیں ہو گا۔

امریکی حکام نے بتایا '' ہمیں اب اس سلسلے میں منصوبے کو مکمل کرنا ہے۔'' اس بارے میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کیٹلین ہیڈن نے رابطہ کرنے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکا کر دیا۔ البتہ ایک سابق امریکی ذمہ دار نے کہا منصوبے میں فرانس کے علاوہ سعودی عرب ، اردن اور امارات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں