حقوق نسواں کا راستہ تعلیم سے طے ہوگا: ملکہ رانیا

عرب خواتین قانونی و سماجی سطحوں پر تبدیلی کیلیے کوشاں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملکہ اردن رانیا نے مشرق وسطی کی خواتین کیلیے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار نیو یارک میں خواتین کی سالانہ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کے بقول ایک اہم مسئلہ جس کا مشرق وسطی کی خواتین کو سامنا ہے ، وہ مذہب کی غلط تعبیر ہے۔

ملکہ رانیا نے کہا اسلام خواتین کو کیرئیر کی اجازت دیتا ہے، آزادی دیتا ہے اور مالی خودمختاری دیتا ہے۔ لیکن یہ ہماری علاقائی اور سماجی روایات ہیں جو خواتین کو پسماندہ رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم خواتین سے ان کی خود اعتمادی نہیں چھینی جا سکتی ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور انہیں مالی خود مختاری دی جائے، انہیں اور تجربے سے لیس کیا جائے۔

ملکہ رانیا نے کہا کہ پچھلے تین برسوں کے دوران عرب دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے عرب خواتین کو خود اعتمادی کا ہتھیار میسر آگیا ہے۔ جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ عناصر انہیں راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن اب خواتین کو خاموش کرانا ان عناصر کیلیے بھی ممکن نہیں رہا ہے۔ کیونکہ مشرق وسطی کی خواتین سماجی اور قانونی دونوں سطحوں پر تبدیلی کیلیے کوشاں ہیں۔

اس موقع پر ملکہ رانیا نے شامی خانہ جنگی کے باعث نقل مکانی کر کے اردن آنے والے شامی پناہ گزینوں کا بھی ذکر کیا جو کہ اردن کی آبادی کے دس فیصد کے برابر ہو چکے ہیں۔ اس وجہ اردن تجارتی خسارے کا شکار ہے اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں