.

دمشق میں روسی سفارت خانے کے آس پاس راکٹوں کی بارش

اللاذقیہ میں اسد نواز فوج کو گھمسان کی جنگ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت دمشق میں روسی سفارت خانے اور سیکیورٹی کے حوالے سے حساس مقامات پر بڑے پیمانے پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق دمشق میں روسی سفارت خانے کے قریب المزرعہ کالونی اور کئی اہم سیکیورٹی مراکز پر ھاون راکٹ گرے ہیں، تاہم ان میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق نامعلوم سمت سے داغے گئے کئی راکٹ جنوبی دارالحکومت کی الشاغور کالونی، الطبالہ اور الدویلعہ میں گرے ہیں۔ ان کالونیوں میں اہم فوجی مراکز کے علاوہ اکثریت عیسائی اور دروز قبائل کی رہائش پذیر ہے۔

ادھر جنرل انقلاب کونسل کی جانب سے جاری کردہ خبر میں بھی دمشق میں اہم مقامات پر راکٹ حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز دمشق میں پولیس کے ایک ہیڈکواٹر کے قریب راکٹ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی۔

ہفتے ہی کے دن سرکاری فوج نے دمشق میں باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی ہے جبکہ اللاذقیہ شہر میں جیش الحر اور اسد نواز فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

قبل ازیں حلب میں سرکاری فوج نے جنگی جہازوں سے بمباری کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شمالی حلب میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے جنگجو شہر میں داخلے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔