.

اخوانیوں کو سزائے موت سنانے والا جج گھر میں محصور

دو ہفتے سے جج کے گھر کا پانی اور بجلی بند رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شہر المنیا کی ایک فوج داری عدالت کے جج ایڈووکیٹ سعید یوسف نے کہا ہے کہ 528 اخوانی کارکنوں کو پرتشدد کارروائیوں اور شہریوں پر قاتلانہ حملوں کی پاداش میں موت کی سزاء سنائے جانے کے بعد انہیں اخوان کی جانب سے جان سے مار ڈالنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے جس کے باعث وہ اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سعید یوسف کہا کہ "میرا قصور یہ ہے کہ میں ملک میں افراتفری پھیلانے اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث افراد کو ان کے جرم کے مطابق سزائیں سنائی ہیں۔ سابق حکومت کی برطرفی کے بعد الجیزہ گورنری کے رابعہ العدوی اور قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں پرتشدد مظاہرے کرنے والے اخوانی عناصر دہشت گردی میں ملوث قرار پائے تھے، جس کی پاداش میں 24 مارچ کو ان میں سے پانچ سو اٹھائیس کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں مصری جج نے کہا کہ اخوان المسلمون کے حامیوں نے القلیوبیہ میں میری رہائش گاہ کے سامنے عدالتی فیصلے کے خلاف دھرنا دیا، لیکن سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو اپنے اہل خانہ سمیت گھر میں محصور محسوس کر رہا ہوں کیونکہ اخوان المسلمون کے اشتعال پسند کارکن ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

تاہم مصری جج سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے اتنی کثیر تعداد میں اخوانی کارکنوں کو موت کی سزاء کیوں سنائی؟ تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں مصری جج کا کہنا تھا کہ قلیوبیہ کی "سٹی کونسل" کا سربراہ ایک اخوانی ہے۔ جب سے میں نے اخوانیوں کو سزائے موت سنائی ہے۔ اسی دن سے مجھے انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سے میرے گھر کا پانی اور بجلی بند اور گھر کی طرف آنے والے تمام راستے بلاک کر دیے گئے۔ دو ہفتے ہم پانی اور بجلی سے محروم رہے ہیں۔ جس کے بعد مجھے براہ راست وزیر اعظم ابراہیم محلب سے بات کرنا پڑی جن مداخلت کے بعد میرے گھر کا پانی اور بجلی بحال کیے گئے۔

اخوان المسلمون کے پانچ سو اٹھائیس سیاسی کارکنوں کو پھانسی کی سزا سنانے والے جج نے اخوانی کارکنوں کے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف اشتعال انگیز مہم کا بھی شکوہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے مجھے بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے لیکن مخالفین کی شر انگیز مہم مجھے کمزور نہیں کر سکتی بلکہ اس سے میرے عزم و ہمت میں مزید اضافہ ہو گا۔