.

بشارالاسد کا اقتدار اب خطرے میں نہیں: حسن نصراللہ

شام کو تقسیم کرنے کی سازش بھی ناکام بنا دی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ'' شام کے صدر بشارالاسد کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔'' حسن نصراللہ کے مطابق شامی رجیم کے لیے موجود خطرات ختم ہو چکے ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اس امر کا اظہار اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کیا ہے۔

شیعہ رہنما نے کہا ''اب باغیوں اور ان کیلیے فنڈنگ کرنے والوں کو شرمندگی کی جنگ اپنانا ہو گی کیونکہ شامی اپوزیشن بڑی جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔'' حسن نصراللہ نے مزید کہا '' جو کچھ الاذقیہ اور کساب میں ہو رہا ہے ہم اسے بڑی جنگ نہیں کہہ سکتے۔''

واضح رہے شامی باغیوں کو حالیہ دنوں میں بشارالاسد کے آبائی صوبے الاذقیہ کو کافی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ '' تین سالہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ بشار رجیم کمزور نہیں ہے جبکہ صدر بشار کو عوام کی حمایت حاصل ہے۔ '' تاہم انہوں نے کہا '' ہم نے شام کے تقسیم ہونے کا خطرہ ٹال دیا ہے۔''

انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا '' عرب ملکوں نے بشار رجیم کو ایران سے تعلقات ختم کرنے کے بدلے میں سفارتی نوعیت کی پیش کشیں کی ہیں۔'' روس کے ساتھ کریمیا کے الحاق کے حوالے سے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا روس کی طرف سے شام کی امداد اور حمایت میں اضافہ ہو گا۔''

ایک سوال کے جواب میں کہا '' لبنان پر بمباری کے خطرات کافی حد تک کم ہو گئے ہیں کیونکہ لبنان اور شام کی سرحد کے ساتھ حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں بشار رجیم کی طرف سے باغیوں کے خلاف سرگرم ہیں۔

حزب اللہ نے باغیوں سے ان کے علاقے خالی کرانے میں بھی بشار رجیم کی مدد کی ہے، تاہم حزب اللہ کے اس کردار کی وجہ سے عوامی سطح پر شیعہ سنی تقسیم پیدا ہوئی ہے۔ اس تقسیم کے اثرات لبنان میں بھی تازہ ہو رہے ہیں۔ خیال رہے تین سالہ خانہ جنگی میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کے لقمہ اجل بننے کی اطلاعات ہیں۔