.

مصر:چار ہم جنس پرستوں کو 3 سے 8 سال تک جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے چار مردوں کو ہم جنس پرستی کا الزام ثابت ہونے پر مجرم قراردے کر تین سے آٹھ سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

پراسیکیوٹرز نے ان مردوں پر''انحرافی پارٹیاں''منعقد کرنے اور عورتوں جیسا لباس پہننے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا تھا۔عدالت نے ان میں سے تین کو آٹھ آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے اور ایک کو تین سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

پراسیکیوٹرز نے ان چاروں پر خلاف فطرت جنسی فعل پر پابندی کے قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر ماضی میں ہم جنس پرستی اور بدفعلی کے مرتکب ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مصر میں ہم جنس پرستوں کو عادی گَے یا بدفعلی کے مرتکب ثابت کرنے کے لیے ان کے زبردستی میڈیکل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ بھر میں ہم جنس پرستوں سے کوئی رورعایت نہیں برتی جاتی ہے اور معاشرے میں بھی انھیں ناپسندیدہ قراردیا جاتا ہے۔