خوفناک طریقے سے ہلاک شدہ شامی خاتون کی جعلی تصویر

کینیڈا کی بنی ''ہارر مووی'' کی تصویر سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہلاک شدہ ایک شامی خاتون سے منسوب کردہ تصویر کی اشاعت پر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے شور کے حوالے سے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ تصویر کینیڈا میں بننے والی ایک ''ہارر مووی'' سے لی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی اس تصویر کو تشدد زدہ عیسائی اکثریت کے قصبے کساب سے متعلق بتایا گیا تھا۔

میڈیا مبصرین نے بھی اس تصویر کو جعلی قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تصویر جس میں چہرے پر لگا خوفناک زخم دکھایا گیا ہے وہ 2005 میں بنائی گئی کینیڈین فلم سے لی گئی اور محض پراپیگنڈہ کیلیے استعمال کی گئی ہے۔ واضح رہے یہ تصویر ٹوئٹر پر بہت زیادہ پھیلائی گئی تھی ، لبنان سے تعلق رکھنے والے ایم ٹی وی کے مطابق اسے شامی رجیم نے پھیلایا ہے۔

''کساب کو بچاو'' کے نام سے بنے فیس بک پیج نے ایک تباہ شدہ عیسائی گرجا گھر کی بھی تصویر دکھائی گئی ہے، اس پر دو الگ الگ تحریریں درج ہیں '' جرائم سے نفرت کرو'' اور ''دنیا خاموش ہے۔''

جمعہ کے روز لبنان کے ایک روزنامہ نے شائع کیا کہ ''کساب بمقابلہ قصاب '' اس میں تصاویر سے بھی مدد لی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ کساب کا یہ اکیلا واقعہ نہیں ہے۔

ماہ مارچ کے اواخر میں کساب کے مئیر نے آرمینین ٹی وی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ان دعووں کو مسترد کیا کہ آرمینینز کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ مئیر کا کہنا تھا کہ '' میں نہیں جانتا کہ کہ یہ افواہیں کس طرح پھیلائی جا رہی ہیں، آرمینین لوگ ابھی تک جنگ زدہ علاقوں سے نکل کر آ رہے ہیں تاکہ خود کو بچا سکیں جہاں انہیں خوراک اور دوسری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں