"رواں سال کے اختتام تک باغیوں کے خلاف جنگ جیت لیں گے"

یوکرینی صدر کی طرح ملک سے فرار نہیں ہوں گا: بشار الاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ "ان کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک اب دم توڑ رہی ہے۔ رواں سال کے اختتام تک باغیوں کو مکمل شکست دے کر ہم جنگ جیت جائیں گے۔"

روسی خبر رساں ایجنسی ایتار طاس کے مطابق صدر بشار الاسد کا یہ بیان سابق روسی وزیر اعظم سیرگری اسٹپائشن نے نقل کیا ہے۔ سابق روسی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بشار الاسد نے انہیں بتایا کہ شام میں جاری بغاوت کی تحریک دم توڑ رہی ہے۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں جلد فتح مند ہونے والے ہیں۔ رواں سال اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور 2014ء کے آخر تک ہم جنگ جیت جائیں گے۔

خیال رہے کہ سابق روسی وزیر اعظم نے سیرگی اسٹیپاشین نے گذشتہ ہفتے ایک اعلی اختیاراتی وفد کے ہمراہ شام کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے بشار الاسد سے بھی ملاقات کی تھی۔ انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین کا خصوصی پیغام بھی شامی صدر تک پہنچایا۔

مسٹر اسٹیپاشین کا کہنا تھا کہ "میں نے شامی صدر بشار الاسد کی رہائش گاہ پر ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی۔ میں نے انہیں روس کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر انہوں نے روس کے غیر مشروط تعاون بالخصوص کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے معاملے پر ماسکو کے موقف کا شکریہ ادا کیا"۔

سابق روسی وزیر اعظم نے کہا کہ صدر بشار الاسد مطمئن اور صحت مند تھے۔ انہوں نے مکمل خود اعتمادی کے ساتھ کہا کہ رواں سال کے آخر تک ہم جنگ جیت جائیں گے۔

اس موقع پر صدر بشار الاسد نے سابق روسی وزیر اعظم سے کہا کہ"صدر ولادی میر پوتین سے کہہ دینا کہ میں ویکٹور یانو کووچ [معزول یوکرینی صدر] نہیں ہوں۔ میں شام سے باہر کسی دوسرے ملک میں فرار نہیں ہوں گا"۔

خیال رہے کہ یوکرین کے معزول صدر یانوکووچ عوامی بغاوت کے بعد گذشتہ فروری میں فرار ہو کر روس پہنچ گئے تھے۔ صدر اسد کا کہنا تھا کہ مُجھے معزول یوکرینی صدر یانوکووچ جیسے حالات کا سامنا نہیں۔ میں بغاوت کی تحریک کے باوجود اپنے ملک میں ہوں اور رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ"اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بشار الاسد جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ میرے ارد گرد نہایت مخلص اور جانثار دوست ہیں۔ یانوکووچ کی طرح میں نے منافقوں اور دشمنوں کا ٹولہ جمع نہیں کر رکھا۔ میرے مقربین سودے بازی اور چوری نہیں کرتے بلکہ جنگ لڑتے ہیں"۔ ان کا اشارہ معزول یوکرینی صدر ویکٹور یانوکووچ کے عزیزو اقارب کی جانب تھا جنہوں نے مشکل میں یانو کووچ کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔

سابق روسی وزیر اعظم نے کہا کہ شامی میں جنگ جیتے کا جذبہ موجود ہے اور وہ پوری طاقت کے ساتھ باغیوں کو شکست دینے کا عزم رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں