فلسطینی اولمپئین کے غزہ سے باہر جانے پر پابندی برقرار

عدالت فوج کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتی: اسرائیلی ہائی کورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی ہائی کورٹ نے غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اولمپئین کو مغربی کنارے میں میراتھن میں حصہ لینے سے روک دیا ہے اور اس ضمن میں صہیونی فوج کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔

اسرائیلی عدالت عالیہ کے حکم کے بعد اب چونتیس سالہ نادر مصری جمعہ کو غرب اردن کے شہر بیت لحم میں ہونے والی میراتھن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔واضح رہے کہ انھوں نے 2008ء میں بیجنگ میں منعقدہ اولمپکس میں حصہ لیا تھا۔

انھوں نے اسرائِیلی عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غزہ سے باہر سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹوں کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔

اسرائیلی عدالت عالیہ کے ججوں نے منگل کو فوج کی جانب سے فلسطینی اولمپئین کی نقل وحرکت پر عاید کردہ پابندی کے سامنے ہاتھ کھڑے دیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ فوج کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرسکتے۔البتہ انھوں نے انصاف کا منہ رکھنے کے لیے فوج سے یہ کہنا بھی ضروری خیال کیا ہے کہ اس کو سفری پابندی میں نرمی پر غور کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 2007ء سے غزہ کی پٹی کی بحری ،بری اور فضائی ناکہ بندی کررکھی ہے۔محصور فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر کڑی پابندیاں عاید ہیں اور اب حالیہ مہینوں کے دوران پڑوسی ملک مصر نے بھی غزہ کی پٹی کا محاصرہ سخت کردیا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی اس سب سے بڑی کھلی جیل کے مکین سولہ،سترہ لاکھ فلسطینی انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور انھیں بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور انھیں غزہ سے باہر بیرونی دنیا سے روابط کی اجازت نہیں ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج اور حکومت کا یہ موقف ہے کہ صرف انسانی بنیاد پر کیسوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں