.

اخوان کے حامی اور مخالف طلباء میں تصادم، اسلحہ کا استعمال

اخوانی طلباء پر اسکندریہ کامرس کالج میں دہشت پھیلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مختلف جامعات، کالجوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں کالعدم تنظیم اخوان المسلمون کے حامی اور مخالف طلباء میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ ساحلی شہر اسکندریہ کی یونیورسٹی سے ملحقہ اسکندریہ کالج آف کامرس میں فوجی حکومت کے حامیوں اور اخوان نواز طلباء کے درمیان کشیدگی کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے پر کھلے عام آتشیں اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں متعدد طلبا زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسکندریہ کالج آف کامرس میں کشیدگی کا آغاز دو اخوانی طلباء اور ان کے ایک مخالف کے درمیان تو تکار سے ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اخوانی طلباء آتشیں اسلحہ اور دستی ہتھیار لئے کیمپس میں جمع ہو گئے۔ انہوں نے مخالف طالب علم اور اس کے ساتھیوں کی خوب دھنائی کی اور کالج کے فرنیچر اور دیگر قیمتی اشیاء توڑ ڈالیں۔ حکومت کے حامی اور مخالف طلباء کے درمیان کشیدگی کے بعد طالبات خوف زدہ ہو گئیں جنہوں نے انتظامیہ کے دفاتر میں پناہ حاصل کر کے اپنی جانیں بچائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کالج کے متحارب طلباء کے درمیان جھگڑا ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ بعد ازاں کالج کی انتظامیہ نے پولیس کی مدد لیے بغیر خود ہی طلباء کو منتشر کیا۔

درایں اثناء اسکندریہ کالج آف کامرس کے ڈین ڈاکٹر سمیر کامل محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اخوانی طالب علم اور اس کے مخالفین کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد دونوں نے اپنے اپنے حامی طلباء کو جمع کر لیا گیا۔ اخوانی طالب علم کے حامی کھلے عام اسلحہ لہراتے مخالفین پر جھپٹ پڑے۔ اخوان نواز طلباء نے اپنے مخالفین کو بری طرح مارا پیٹا۔

انہوں نے بتایا کہ جب مُجھے واقعے کا علم ہوا تو میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کالج کی سیکیورٹی کو بھی مداخلت کا حکم دیا تھا تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی ہم نے جھگڑا ختم کراتے ہوئے طلباء کو منتشر کر دیا تھا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹر سمیر کامل نے بتایا کہ طلباء کےدرمیان ہونے والے اس تنازع کی ان کے پاس مکمل ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ کشیدگی کے وقت طلباء کی تصاویر لے لی گئی تھیں۔ اس لیے طلباء پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف کسی بھی تفتیشی کارروائی میں وہ تخریب کار عناصر کی تصاویر پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈیو فوٹیج میں اخوانی طلباء کو کالج کے دوسرے طالب علموں پر تشدد کرتے اور توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کارروائی میں ملوث قرار پائے طلباء کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ مصر میں گذشتہ برس منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اخوان المسلمون کے حامی شہریوں اور ان کے مخالفین کے درمیان مسلسل کشیدگی جاری ہے۔

فوجی آمریت کے حامیوں اور اخوانی طلباء بھی ایک دوسرے کے مد مقابل آ گئے ہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں مصری جامعات اور دوسرے تعلیمی ادارے حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔ جن میں متعدد طلباء جاں بحق اور دسیوں زخمی اور گرفتار کیے گئے۔