.

مظالم میں شامی حکومت بہت آگے ہے: اقوام متحدہ

یہ پراپیگنڈہ ہے: شامی سفیر، سلامتی کونسل میں ڈیڈلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار رجیم کے ہاتھوں مظالم کا حجم بڑھ گیا ہے، جبک اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر ناوی پیلے کا کہنا ہے کہ حالیہ تین برسوں کے دوران حکومت کے ساتھ باغیوں کو بھی انسانی حقوق کے خلاف جارحیت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

ناوی پیلے نے کہا شام میں ہونے والے مظالم کو مرتب اور دستاویزی شکل میں سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ ذمہ داروں کو جرائم کی عالمی عدالت کے سامنے لایا جا سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ان مظالم کے حوالے سے دونوں فریقوں کو برابر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا حکومتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا وزن کہیں زیادہ ہے۔ بشار حکومت ، قتل و غارت گری، غیر قانونی حراستوں اور شہریوں کو لاپتہ کرنے کی ذمہ دار ہے۔

ناوی پیلے نے ماہ مارچ میں ہونے والے مظالم کے بارے میں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا '' شام میں اس صورتحال سے کسی کو بھی مکمل بری قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم اس کی ذمہ داری حکومت کی اعلی ترین سطح تک جاتی ہے۔

پیلے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس بارے میں بریفنگ کے موقع پر کہا سلامتی کونسل کو یہ معاملہ آئی سی سی میں بھیجنا چاہیے۔ لیکن واضح رہے روس اور چین دونوں ویٹو کی بنیاد پر شام کے حق میں حصار بنا لیتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے سربراہ اور ناِجیرین سفیر جوائے اوگو نے اس موقع پر نوٹ کیا کہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں معاملہ لے جانے پر ڈیڈ لاک کی صورت حال ہے۔

اس سے پہلے فرانس نے پیلے سے درخواست کی تھی کہ لیکن روس سے اپنے اس عرب دوست کے بارے میں حقائق منظر عام پر لانے کو پسند نہ کیا تھا۔ پیلے نے انسانی حقوق کی زیادہ تر ذمہ داری شامی حکومت پر عاید کی تو اقوام متحدہ میں شامی سفیر بشار جفری نے اسے شام کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کا حصہ قرار دیا۔