.

شامی فوج کا رنکوس پر قبضہ، جیش الحر کی تردید

دمشق کے شمال میں واقع علاقے میں شامی باغیوں کو پے درپے ہزیمت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے وادی قلمون میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ قصبے رنکوس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ جیش الحر نے شام کے سرکاری میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کی اطلاع کے مطابق :''شامی فوج کے یونٹوں نے رنکوس میں اپنی کارروائی مکمل کر لی ہے۔انھوں نے وہاں سلامتی اور استحکام کو بحال کردیا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا ہے''۔

قبل ازیں برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی تھی کہ ''شامی فوج علاقے میں داخل ہوگئی ہے اور اس کی باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی ہورہی ہے اور اس نے بھاری گولہ باری کی ہے''۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ قلمون اور صوبہ دمشق کے علاقے مشرقی غوطہ میں اٹھائیس باغی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔رنکوس دمشق سے پینتالیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے وقت اس کی آبادی بیس ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔

شامی فوج نے لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ اور حکومت نواز ملیشیا کی مدد سے وادی قلمون کے بیشتر حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور ان کے مقابلے میں باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر اور دوسری جہادی تنظیموں کو پے درپے شکست کا سامنا ہے۔

شامی فوج نے گذشتہ ماہ لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ایک اور قصبے یبرود میں باغیوں کو لڑائی میں شکست دی تھی اور اس کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔اس قصبے پر قبضے کے بعد لبنان کی وادی بقاع میں واقع قصبے عرسال تک باغیوں کی سپلائی لائن بھی کٹ چکی ہے جس کی وجہ سے انھیں جدید اسلحے سے لیس شامی فوج کے مقابلے میں پسپائی کا سامنا ہے۔حالیہ فتوحات کے بعد شامی فوج کا مورال بلند ہوا ہے اور حزب اختلاف کو بڑا دھچکا لگا ہے۔