اسدی فوج کے آتش گیر بیرل بم حملوں پر عوام پھٹ پڑے

"بشار الاسد کے وفادار جہنمی اور اسلام دشمن ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں بشار الاسد کی فوج نے باغیوں کے خلاف جاری جنگ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بیرل بم حملوں کو روز کا معمول بنا لیا ہے، جس کے باعث عوام میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو حلب میں شامی فوج نے اس وقت آتش گیر بم حملے شروع کیے جب شہری نماز جمعہ کی تیاری کر رہے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حلب کے شہریوں نے سرکاری فوج کی بیرل بمباری کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشار الاسد نواز فوج، باغیوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں نہتے خواتین اور بچوں کو قتل عام کا نشانہ بنا رہی ہے۔

حلب کے ایک شہری نے اسدی فوج کی گولہ باری پر سخت غصے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جنگ میں مارے جانے والے خواتین اور بچوں کی میتوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ "وہ دیکھو! یہ کون سے جنگجو ہیں؟ یہ سب خواتین اور بچے ہیں، بیرل بم حملوں میں ان کے چیتھڑے اڑا دیے گئے ہیں۔ ان کا کیا قصور تھا۔ یہ سب شہید ہیں اور جنت میں جائیں گے، جبکہ اسدی فوج سے تعلق رکھنے والے مُردار اور جہنمی ہیں۔"

ایک اور شہری نے اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جو مظالم بشار الاسد کی فوج نہتے شہریوں پر ڈھا رہی ہے وہ فلسطین میں اسرائیلی فوج بھی نہیں کرتی۔ ایک اور شہری نے کہا کہ اسدی فوج نے ہم پر بیرل بم اس وقت برسانا شروع کیے جب ہم نماز جمعہ کے لیے مساجد کی طرف جا رہے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسدی فوج کی جانب شہریوں پر بیرل بم حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شام میں اتنے لوگ کیمیائی ہتھیاروں سے نہیں مارے گئے جتنے بیرل بم حملوں میں مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں باغیوں کو کچلنے کے لیے اسدی فوج نے بیرل بم حملوں کا استعمال دو سال قبل شروع کیا تھا۔ اپنی تباہی اور بربادی کے اعتبار سے یہ بم نہایت مہلک ثابت ہوتے ہیں شہریوں پر خوف طاری کرنے کا اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں.

بیرل بم شام میں مقامی سطح پر تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے 'اہداف' پر گرایا جاتا ہے۔ بیرل بموں کی تیاری میں پٹرول، دھماکہ خیز مواد، مختلف دھاتیں اور ڈائنمائیٹ استعمال ہوتے ہیں۔ ڈائنمائیٹ دھماکہ خیز مواد لبنان سے شام لایا جاتا ہے جبکہ باقی اشیاء مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں