.

شام کا سرحدی قصبہ القاعدہ سے خالی کرا لیا گیا

ابو کمال کا علاقہ النصرہ فرنٹ کے کنٹرول میں آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے منسلک جہادی گروپ سے اس کے مخالف عسکری گروپ نے عراقی سرحد سے متصل علاقہ چھین لیا ہے۔ جمعرات کے روز ہونے والی خونریز جھڑپ میں 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ النصرہ فرنٹ سے ابوکمال کا علاقہ چھیننے والی آئی ایس آئی ایس کے جنگجو شام اور عراق کی سرحدوں سے ماورا سرگرم ہیں اور دونوں ملکوں کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں تاہم اسے القاعدہ کی قیادت قبول نہی کرتی ہے۔

آئی ایس آئی ایس نے تین اطراف سے حملہ کر کے النصرہ فرنٹ اور اس کے اتحادیوں سے سرحدی قصبہ چھین لیا ہے۔ آئی ایس آئی ایس کے جنگجو اس سال کے شروع سے ہی اس سرحدی علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کیلیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کے روز صبح سویرے ابوکمال نامی سرحدی قصبے میں لڑائی شروع ہو گئی۔ آئی ایس آئی ایس علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہے اور اس نے کئی قریبی دیہات کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے اس سے پہلے یہ علاقے النصرہ فرنٹ کے قبضے میں تھے۔

شامی باغیوں کی فوج ایف ایس اے کے ایک کمانڈر کا کہنا ہے ایف ایس اے کا قریبی سرحدی علاقے پر قبضہ برقرار ہے۔ دوسری جانب عراقی میں خبررساں ادارے کے نمائندے نے عراقی قصبے القائم سے تصدیق کی ہے کہ سرحدی علاقے میں ایف ایس اے کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔

''العربیہ'' کے مطابق ابو کمال پر آئی ایس آئی ایس کے حملے بدھ کے روز سے حملے کر رہی ہے اور اس کا ابوکمال کا کمانڈر مارا جا چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی پیش قدمی رکی نہیں ہے۔ واضح رہے ابوکمال کا علاقہ نومبر 2012 سے بشار رجیم کی مخلاف قوتوں کے پاس رہا ہے۔

تاہم آئی ایس آئی ایل اسی نے سال کے آغاز میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنگ سے پہلے اس ابو کمال کی آبادی ستر ہزار کے قریب تھی۔ اس علاقے میں سرکاری فوج کا کنٹرول اب محض عراق کے ساتھ سرکاری راہداری تک رہ گیا ہے۔