فلسطین سے اسرائیل کے روابط محدود ہونا بدقسمتی ہے: امریکا

دوطرفہ تعاون دونوں کے فائدے میں ہے: امریکی ترجمان جین پاسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس اعلان پر افسوس ظاہر کیا ہے جس میں یاہو نے اپنی کابینہ کے ارکان کو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنے روابط محدود کرنے کیلیے کہا ہے۔ امریکی ترجمان جین پاسکی نے اس اسرائیلی حکم کو '' بد قسمتی '' قرار دیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے اس بارے میں کہا '' یقینا ہم اس اعلان سے آگاہ ہیں اور ہم اسے ایک بد قسمتی سمجھتے ہیں۔'' جین پاسکی نے یہ بات اسرئیلی وزیر خارجہ لائیبرمین سے جان کیری کی ملاقات کے بعد کہی ہے۔

نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو فلسطینی کابینہ کے ساتھ کم رابطوں کا حکم مبینہ طور پر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر دیا ہے۔ جبکہ جین پاسکی کا کہنا ہے کہ ''اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعاون دونوں کے فائدے میں ہے۔ '' امریکی ترجمان نے دونوں فریقوں پر امن کی خاطر خیر سگالی کے ماحول کیلیے زور دیا۔

اس سے پہلے جان کری اور لائیبرمین کے درمیان امریکی دفتر خارجہ میں ملاقات ہوئی ہے تاکہ امن مذاکرات میں آنے والا تعطل دور ہو سکے۔ لائیبرمین کے دفتر کے مطابق ایک گھنٹے پر محیط اس ملاقات میں ایران اور شام کے بارے میں تبادلہ خیال کے علاوہ دوسرے موضوعات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔

جان کیری نے اس ملاقات سے پہلے مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' ظاہر ہے ہم کوئی راستہ نکالنے کیلیے سخت محنت کر رہے ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ دونوں فریق بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔'' دوسری جانب لائیبرمین نے کہا '' ہم سمجھتے ہیں کی اسرائیل نے پہلے ہی امن مذاکرات کے لیے غیر معمولی عمل میں اچھے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔'' اسرائیلی وزیر خارجہ نے مزید کہا '' میرے خیال میں آپ اور ہم ایک ہی چیز کیلیے خواہاں ہیں کہ ایک حتمی معاہدہ ممکن ہو جائے ۔''

مقبول خبریں اہم خبریں