.

دمشق: شامی فوج پر زہریلی گیس کے نئے حملے کا الزام

شکار ہونے والوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا،متعدد کی حالت تشویش ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے اخباری ذرائع نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں سرکاری فوج کے زہریلی گیس کے ایک نئے حملے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ حملے کا شکار ہونے والوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

شام نیوزنیٹ ورک کی اطلاع کے مطابق دمشق کے نواحی علاقہ الحرستا میں شامی فوج نے زہریلی گیس کا نیا حملہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد مقامی مکینوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ تاہم دوسرے ذرائع نے اس اطلاع کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

شامی حزب اختلاف کے ارکان نے بشارالاسد کی حکومت پر دمشق کے نواحی علاقوں حرستا اور جبر میں کیمیائی ہتھیاروں کے متعدد حملے کرنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اور برطانوی حکام اسدی فورسز پر جنوری اور اپریل کے درمیان دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے چار حملوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

برطانوی روزنامے لندن ٹائمز نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں برطانوی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس مرتبہ شاید اسد رجیم نے حملے میں زہریلی صنعتی گیس استعمال کی ہے اور اس کا مقصد باغی جنگجوؤں کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ اس عمل میں بین الاقوامی تنقید سے بھی بچا جا سکے۔

اسی ہفتے اسرائیل کے ایک دفاعی عہدے دار نے بھی کہا تھا کہ اسد رجیم نے مارچ کے آخر میں شامی دارالحکومت کے نواح میں حزب اختلاف کے جنگجوؤں کو مضمحل کرنے کے لیے غیرمہلک زہریلی گیس استعمال کی تھی۔

''دی ٹائمز آف اسرائیل'' نے اس عہدے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ان میں سے ایک حملہ 27 مارچ کو الحرستا میں کیا گیا تھا اوراس کیمیائی حملے کے اثرات کئی گھنٹے تک رہے تھے۔

واضح رہے کہ دسمبر 2013ء میں اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جبر اور دمشق کے ایک اور نواحی علاقے غوطہ میں سیرن گیس کا استعمال کیا گیا تھا۔ شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کی حکومت پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا لیکن اسدی حکومت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

یاد رہے کہ 21 اگست 2013ء کو غوطہ میں کیمیائی گیس کے حملے میں سیکڑوں شامی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس پر عالمی برادری کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور امریکا نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی لیکن بعد میں روس کی ثالثی میں بشارالاسد کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے رضامندی کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے اپنی حملے کی دھمکی پر عمل درآمد نہیں کیا تھا۔اس پر خود انھیں امریکی کانگریس اور سعودی عرب کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔