.

عراقی نائب وزیراعظم قاتلانہ حملے میں بچ نکلے

ابوغریب کے نزدیک دیہات کے دورے کے موقع پر مسلح افراد کی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے نائب وزیراعظم صالح المطلک کے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی ہے اور دو دھماکا خیز ڈیوائسز سے حملہ کیا ہے لیکن وہ اس قاتلانہ حملے میں بچ نکلے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ صالح المطلک اور ایک رکن پارلیمان طلال الزوباعی دارالحکومت بغداد سے مغرب میں واقع قصبے ابو غریب کے نزدیک دیہات کے دورے پر تھے۔زوباعی نے بتایا ہے کہ حملہ آور فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور فوجی گاڑیوں پر سوار تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے صالح المطلک کے قافلے پر فائرنگ کر دی۔ اس کے جواب میں ان کے محافظوں اور فوجیوں نے بھی فائرنگ کی۔اس کے نتیجے میں تین سرکاری محافظ زخمی ہوگئے اور حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گِئے ہیں۔

عراق کے نائب وزیراعظم اور ان کے ساتھ دوسرے عہدے دار علاقے میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے معائنے کے لیے گئے تھے۔صالح المطلک 30 اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے العربیہ اتحاد کی مہم چلا رہے ہیں۔ان کی جماعت عراقی فرنٹ برائے نیشنل ڈائیلاگ اس اتحاد کا حصہ ہے۔

العربیہ اتحاد سیکولر اہل تشیع اور اہل سنت کی جماعتوں پر مشتمل العراقیہ اتحاد میں شامل ہے۔اس اتحاد نے 2010ء میں منعقدہ گذشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں اور وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اتحاد سے ایک نشست زیادہ حاصل کی تھی لیکن اس اتحاد کے امیدوار ایادعلاوی کو وزارت عظمیٰ نہیں دی گئی تھی۔

صالح المطلک حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کے شدید ناقد ہیں اور وہ انھیں ماضی میں اپنے بیانات میں آمرمطلق قراردے چکے ہیں۔انھوں نے نوری المالکی ہی کو ملک کے سنی اکثریتی مغربی صوبے الانبار میں جاری بحران کا ذمے دار ٹھہرایا تھا اور اہل سنت کو دیوار سے لگانے کا الزام عاید کیا تھا۔