.

فلسطینی جنیوا معاہدوں میں شامل ہوسکتے ہیں: سوئس حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینی بطور ریاست جنگ کے قواعد اور قبضے سے متعلق جنیوا کنونشنوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاستِ فلسطین نے 2 اپریل کو جنیوا کنونشنوں میں شمولیت کے لیے رضا مندی ظاہر کردی تھی۔ واضح رہے کہ سوئس وزارت خارجہ ہی میں جنیوا معاہدوں میں شمولیت کے لیے ریاستوں کی جانب سے درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔

سوئس حکومت کی جانب سے یہ بیان اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کی جانب سے تیرہ دوسرے کنونشنوں میں فلسطینی ریاست کی درخواست کو قبول کرنے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔بین کی مون نے جمعرات کو ان درخواستوں کو قبول کرنے کی اطلاع دی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی معاہدوں اور کنونشنوں میں شمولیت کے لیے درخواست اور ان کی منظوری کے بعد امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید معدوم ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے جمعرات کو فلسطینیوں پر مزید پابندیاں عاید کردی ہیں۔

اسرائیل نے 29 مارچ کو پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اور آخری مرحلے میں چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا تھا.اس کے ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا اور اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور کنونشنوں میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا۔ان میں جنگ اور قبضے سے متعلق جنیوا کنونشنز بھی شامل ہیں۔

دونوں فریقوں کے ان اقدامات اور جوابی اقدامات کے بعد امن مذاکرات معطل ہوگئے تھے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ نوآبادیانے کے خلاف جنیوا کنونشنوں کا اس کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ پر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ان علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے گذشتہ روز کسی بے نامی ذریعے کے حوالے سے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کو 30 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے لیے ڈیل طے پانے کی اطلاع دی تھی۔اس کے تحت اسرائیل فلسطینی قیدیوں کی غیر متعین تعداد کو جیلوں سے رہا کرے گا اور غرب اردن میں یہودی آبادکاری کا عمل منجمد کردے گا لیکن فریقین کی جانب سے اس نئی ڈیل کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ایک اہم اتحادی جماعت نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے مجوزہ معاہدے میں اسرائیلی عرب قیدیوں کی رہائی کو شامل کرنے کی صورت میں حکومت سے علاحدگی کی دھمکی دی ہے۔

نیتن یاہو کو یہ الٹی میٹم وزیراقتصادی امور نفتالی بینیٹ نے دیا ہے جو جو کٹڑ قوم پرست یہودیوں کی جماعت جیوش ہوم پارٹی کے سربراہ ہیں۔اس جماعت کی اڑسٹھ ارکان پر مشتمل حکمراں اتحاد میں بارہ نشستیں ہیں اور اگر وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے تو پھر نیتن یاہو کو ایک سو بیس ارکان پر مشتمل پارلیمان میں اکثریت برقرار رکھنے کے لیے نئے اتحادی ڈھونڈنا پڑیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے فوری طور پر اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ان کی جماعت لیکوڈ کے ایک سینیر عہدے دار نے بینیٹ کے اعلان کو خالی خولی دھمکی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔