.

مصر: اخوان المسلمون کے دو ارکان ہلاک

واقعہ سکیورٹی فورسز کیساتھ تصادم میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمون جسے عبوری حکومت نے پچھلے سال دسمبر میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا کے دو ارکان جمعہ کے روز سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے مینا کے مطابق مبینہ طور پر دونوں ارکان ایک ایسے گروپ کا حصہ تھے جس نے تانتا اور محلہ الکبری کے درمیان پولیس پر فائرنگ کی تھی۔

واضح رہے یہ قصبے صوبہ غربیہ کے وادی نیل سے متعلقہ علاقے میں واقع ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ان ہلاک کیے گئے اخوان ممبران نے مبینہ طور پر ٹریفک پولیس کی ایک چوکی کو جلانے کی کوشش کی تھی۔

دوہری ہلاکت کا یہ واقعہ مصری حکومت کے جمعرات کے روز اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت اخوان المسلمون کے خلاف قانون کو سختی کے ساتھ بروئے کار لانے اور سزائیں دینے پر زور دیا گیا ہے۔

عبوری حکومت ہر اس شخص کو قانونی کارروائی کی زد میں لانے کا ارادہ رکھتی، ہے جس کا تعلق دہشت گرد قرار دی گئی اخوان سے ہو۔ حتی کہ کوئی شخص جو زبانی یا تحریری طور پر بھی اخوان کی حمایت کرتا ہو اسے بھی قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مصر میں اس سے پہلے ہی اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاون میں سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر چکا ہے۔ ان زیر حراست افراد میں اخوان کے مرشد عام اور مرکزی قائدین کے علاوہ معزول صدر محمد مرسی بھی شامل ہیں، جبکہ ایک ہی روز میں اخوان کے 529 کارکنوں اور حامیوں کو سزائے موت دینے کا عدالتی فیصلہ بھی سامنے آچکا ہے۔