.

جے یو آئی (ف) کا وفاقی حکومت سے اعلانِ علاحدگی

مذہبی سیاسی جماعت کے دونوں وفاقی وزراء کابینہ سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام- فضل (جے یوآئی- ف) نے وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

جے یو آئی(ف) کے ترجمان جان محمد اچکزئی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کو گذشتہ چار ماہ سے مختلف پالیسی معلومات پر تحفظات تھے لیکن حکومت نے انھیں دور کرنے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر جے یوآئی کو اعتماد میں لیا ہے اور نہ تحفظ پاکستان آرڈی ننس (پی پی او) اور قومی سلامتی پالیسی پر اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی ہے۔

وفاقی کابینہ میں شامل جے یوآئی کے دووزراء نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے،انھوں نے جنوری میں وزارتوں کا حلف اٹھایا تھا لیکن انھیں کوئی محکمہ نہیں سونپا گیا تھا۔تاہم جان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزارتوں کا حصول ان کی جماعت کی ترجیح نہیں ہے اور نہ وہ اقتدار کی بھوکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ان کی جماعت کو کبھی اپنا اتحادی نہیں سمجھا۔اس لیے اس کے لیے تعطل کی اس صورت حال کے ہوتے ہوئے حکومت میں بدستور رہنا مشکل تھا۔

دوسری جانب حکمراں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک سینیر لیڈر کا کہنا ہے کہ پی ایم ایل ن اور جے یوآئی ف کی قیادت کے درمیان وزارتوں کے مسئلے پر ڈیڈلاک ہے اور جے یو آئی نے مواصلات اور ہاؤسنگ اور تعمیرات کی وزارت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کو جے یوآئی کے کردار پر تحفظات تھے۔اس لیے پی ایم ایل ن کی قیادت نے جے یوآئی ف کی قیادت سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بارے میں تبادلہ خیال نہیں کیا تھا۔تاہم وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورۂ چین سے واپسی کے بعد جے یوآئی کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مسلم لیگ کے اس ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت نے حزب اختلاف کی جماعتوں اور صوبہ بلوچستان کی حکومت کی جانب سے تحفظ پاکستان آرڈی ننس کے بارے میں تحفظات کے بعد اس پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہےکہ جے یوآئی نے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پی پی او کی مخالفت کی تھی اور اس کی منظوری کے عمل میں حکومت کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے اس کو آئین کے منافی قراردیا تھا اور کہا تھا کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے نام پر اس قانون کے تحت سکیورٹی اداروں کو وسیع تر اختیارات دیے جارہے ہیں۔