.

"ٹیکس آمدن کی منتقلی روکنا اسرائیلی قذاقی ہے"

فلسطینی ریاست کو عالمی مقام دلانے میں تل ابیب ہمیشہ رکاوٹ رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے اسرائیل کی جانب سے ٹیکس ریونیو کی فلسطینی حصے میں آنے والی رقم روکنے پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کا پندرہ عالمی معاہدوں اور اداروں میں شمولیت کے اعلان کے رد عمل میں رقوم روک کر اسرائیل نے"قذاقی" اور فلسطینی قوم کا مال لوٹنے کی کوشش کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے صائب عریقات نے کہا کہ اسرائیل نے جن رقوم کو روکنے کا اعلان کیا ہے وہ ٹیکسوں کی شکل میں فلسطینی اتھارٹی کو ادا کرنا اسرائیل کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی حصے کے ٹیکس کی آمد ہمیں نہیں دے رہا ہے تو یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بھی فلسطینی اتھارٹی نے 'ریاست فلسطین' کو عالمی سطح پر کوئی مقام دلانے کی کوشش کی، اسی وقت اسرائیلیوں کو اس پر سخت تکلیف ہوتی رہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو آزادی کے لیے سفارتی محاذوں پر کوششوں کی سزا کے طور پر ان کا دانہ پانی بند کر کے اپنے 'مقاصد' کی تکمیل کر رہا ہے۔ فلسطینی قوم کے حصے میں آنے والی ٹیکس رقوم روکنا 'اسرائیلی قذاقی' اور عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ کل جمعرات کے روز اسرائیلی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا تھا کہ " فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مذاکرات کی راہ ترک کر کے پندرہ عالمی اداروں میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جس کے رد عمل میں اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی ٹیکس رقوم روکنے کا عمل شروع کرے گی۔

صہیونی حکومت کے عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ"اسرائیل کے ذمہ فلسطینی اتھارٹی کے واجب الاداء ٹیکس روک دیے گئے ہیں"۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ کے ساحل پر فلسطینی اتھارٹی کے اشتراک سے قدرتی گیس کے ایک منصوبے پر بھی کام روک دیا ہے۔ خیال رہے کہ یہ منصوبہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے تعاون سے اس وقت شروع کیا گیا تھا جب اقوام متحدہ، امریکا، روس اور یورپی یونین پر مشتمل کواٹریٹ [گروپ چار] کے سربراہ تھے۔

خیال رہے کہ اسرائیل، فلسطینی اتھارٹی کو ماہانہ 80 ملین ڈالر کی رقم ٹیکسوں اور دیگر واجبات کی مد میں ادا کرتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند ہونے کی صورت میں رام اللہ کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فریقین میں تازہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب امریکا کی نگرانی میں نو ماہ تک جاری رہنے والی مذاکرات کی مشق بغیر کسی ٹھوس پیش رفت کے تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کو ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔