.

اقوام متحدہ کیلیے سفیر، تبدیلی زیر غور نہیں: ایرانی حکام

امریکی موقف کے باوجود جوہری مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک اعلی ذمہ دار نے کہا ہے کہ ایران اقوام متحدہ میں اپنے نامزد کردہ سفیر حامد ابوطالبی کی جگہ کسی دوسرے نام پر غور نہیں کر رہا ہے۔ ابو طالبی کو امریکا نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ اعتراض ہے کہ وہ 1979 میں 52 امریکیوں کو یرغمال بنانے میں ملوث تھے۔

ایران کے سینئیر ذمہ دار علی عراقچی نے کہا '' ہم کسی متبادل کا انتخاب نہیں کر رہے ہیں۔'' اس کے مقابلے میں امریکی حکام امید ظاہر کر چکے ہیں کہ ایران کی طرف سے ابو طالبی کا نام واپس لیے جانے سے معاملہ بڑے سبھاو سے طے ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی ترجمان جے کارنی نے کہا تھا '' ہماری پوزیشن بڑی واضح ہے ہم ابو طالبی کو ویزا جاری نہیں کریں گے۔''

ایرانی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ امریکی موقف کو معمول سے ہٹا ہوا سمجھتے ہوئے کہا '' امریکا کے اس موقف کے باوجود ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ واضح رہے ایران کے جوہری تنازعے کے بارے میں ماہ جولائی میں حتمی معاہدہ کیلیے ڈرافٹ کی تیاری پر بات چیت جاری ہے۔